کتاب: فتاوی نواب محمد صدیق حسن خان - صفحہ 372
([1]) سے تصدیق کی اس کو کوئی گناہ نقصان نہیں پہنچاتا۔
[1] ۔ خالص اہل حدیث فکر کی ترویج میں مصروف ہو گئے تھے فتح الباری ان کی وجہ سے ہندوستان میں طبع ہوئی اور مفت تقسیم ہوئی۔ اسی طرح بےشمار کتب انہوں نے طبع کروا کر اہل علم میں مفت تقسیم کیں۔ وہ خود بھی 223 کتب کے مصنف تھے جن میں فتح البیان تفسیر 10 جلد، لطائف البیان اردو گویا انہوں نے ہر فن میں کتب تحریر کیں ارجع المطالب بھی ان کی ایک اہم تصنیف ہے۔ انہوں نے اس میں فرقہ قدریہ کے تعارف میں حضرت شیخ عبدالقادر کی کتاب الغنیۃ کا نام تحریر کیا ہے کہ اس میں اس کا رد ہے مزید تفصیل اس میں دیکھ لیں۔ (ارجح المطالب فارسی ص 165/تقصار جیوالا احرار صفحہ 68) الغنیہ: عربی زبان میں ہے اس کا ترجمہ مولانا عبدالحکیم سیالکوٹی نے فارسی زبان میں جو جامعہ سلفیہ کا لائبریری میں موجود ہے اس کے متعلق دائرہ معارف لاہور لکھتا ہے کہ شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی مشہور عالم تصنیف ہے عبدالحکیم نے اس کا فارسی ترجمہ اپنے زمانہ کے نامور صوفی شیخ بلال قادری لاہور کی فرمائش پر کیا۔ فارسی ترجمہ کے آغاز میں عبداللہ اللسیب کا خطبہ بھی ہے جس میں وضاحت کی گئی ہے کہ ترجمہ شیخ جیلانی کی روحانی اجازت سے کیا گیا ہے۔ (دائرہ معارف لاہور 2/840) اور اس کتاب میں لکھا ہے کہ ان کی تصنیف "غنية الطالبين لطريق الحق" کی حیثیت ایک معلم دینیات کی ہے اس کتاب کے شروع میں ایک سنی مسلمان کے اخلاق اور معاشرتی فرائض کی وضاحت کی گئی ہے۔ (انسائیکلوپیڈیا لاہور (دائرہ معارف) 12/926) روحانی اجازت:۔ یہ تصوف ہے جس سے روحانیت کے روپ میں لوگوں کے عقائد و افکار کر تباہ کر دیا جاتا ہے بلکہ دنیا میں گمراہی کا سبب ایک تقلید اور دوسرا تصوف ہے۔ جناب من جب آپ نے حضرت شیخ عبدالقادر رحمۃ اللہ علیہ سے روحانی طور پر اجازت طلب کر لی اور اجازت مل بھی گئی پھر کوئی سرپھرا دعویٰ کرے یہ تصنیف شیخ کی نہیں ہے، تو پھر تم نہ کسی کی آن نہ فغان سنتے ہو اپنے ہی مطلب کی سنتے ہو جہاں سنتے ہو یہ بھی یاد رہے دائرہ معارف میں شیخ پر ایک مشہور مقالہ بریلوی مولوی عبدالنبی کوکب کا ہے اس نے بھی اس کتاب کو حضرت کی شمار کیا ہے اسی طرح اسلامی انسائیکلوپیڈیا میں ہے کہ غنیۃ ان کی مشہور اور ضخیم کتاب ہے اس میں شریعت اور طریقت کے مسائل پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔ (لاہور سید محمد قاسم ص 1042) بابائے اردو عبدالحق مرحوم کراچی:۔ جن کا شمار پاک و ہند کے عظیم سکالروں میں ہوتا اردو ادب کے ساتھ ساتھ