کتاب: فتاوی نواب محمد صدیق حسن خان - صفحہ 371
([1])اول: یہ ہے کہ اس بات کا معتقد ہونا کہ جس نے زبان سے شہادتین کا اقرار کیا دل
[1] ۔ "كيف لوارى الغنية للشيخ عبدالقادر" (صفحہ 431 اول جلد میزان) اسی طرح مورخ اسلام حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ تحریر کرتے ہیں کہ "صنف كتاب الغنية و فتوح الغيب و منها اشياء حسنة" اور ابن عماد حنبلی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں "كان عبد القادر متمسكا فى مسائل الصفات والقدر و نحوهما بالسنة مبالغا فى الرد على من خالفها قال فى كتابه الغنية المشهور" شیخ عبدالقادر رحمۃ اللہ علیہ صفات و قدر میں کتاب و سنت پر عمل پیرا تھے اور انہوں نے قدریہ جھمیہ وغیرہ فرقوں کا سختی سے رد لکھا ہے اپنی مشہور کتاب الغنیۃ میں (کتاب شذرات الذہب 4/201) کشف الظنون جو مصنفین کی ایک فہرست کا نام ہے "غنية الطالبين لطريق الحق" "للشيخ عبد القادر الكيلانى الحنفى المتوفى السنة" تو اس سے ثابت ہوا کہ یہ کتاب حضرت صاحب کی ہے۔ (کشف الظنون ص 2/1211) دائرہ معارف بستانی تحریر کرتے ہیں "ذكر بعض من كتب فى مناقبه انه الف كتبا مفيده وليس بين الايدى من هذه الكتب الاكتاب المعروف بالغنية والفتح الربانى و فتوح الغيب" حضرت کی کتب کی تعداد تو بہت زیادہ ہے بعض نے ایک ہزار تک تعداد شمار کی ہے مگر غنیۃ و فتوح الغیب بہت زیادہ معروف ہے۔ (دائرہ المعارف بستانی 11/622) اس طرح العلوم میں لکھا ہے کہ "له كتب منها الغنية مطالب لطريق الحق والفتح الربانى وفتوح الغيب" (ج 4/47) حضرت جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کا کیونکہ حنبلی لوگوں میں شمار ہوتا ہے بلکہ بعض نے تو لکھا ہے کہ حضرت نے ان سے اپنا تعلق توڑ لیا تھا بہرحال حنبلی کتب ان کو امام احمد کی طرف نسبت قرار دیتے ہیں جیسے ذیل ابن رجب میں لکھا ہے کہ "له كتاب الغنية وهو معروف" (ذیل 1/296) رضا کحالہ:۔ اپنی تصنیف میں ان کی کتب کا تذکرہ کرتے ہیں "جلاء الخاطر فى الباطن والظاهر والغنية" (معجم المصنفین 5/307) معجم المطبوعات العربیہ:۔ کے مرتب تحریر کرتے ہیں کہ "الغنية الطالبى طريق الحق" ساتھ اور بھی کتب کے نام ہیں فقہ اکبر جو امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی طرف نسبت کی جاتی ہے مگر حقائق اس بات کا ساتھ نہیں دیتے بلکہ مولانا شبلی رحمۃ اللہ علیہ نے سیرت نعمان میں اس کا انکار کیا ہے بہرحال اس کے شارح ملاں علی قاری جو حنفی مکتبہ فکر کے ایک ستون مانے جاتے ہیں انہوں نے لکھا ہے "اماماوقع فى الغنية اللشيخ عبدالقادر جيلانى" انہوں نے اس جگہ فرقہ ناجیہ کا ذکر کیا ہے اور ابوحنیفہ اور اہل اصحاب کو فرقہ قدریہ میں شمار کیا ہے۔ (شرح فقہ اکبر ص 88-89) مولانا محمد معین سندھی:۔ جو حضرت شاہ ولی اللہ کے ہم عمر ہیں انہوں نے لکھا ہے کہ "قوله فى الغنية" (دراسات اللبیب فی الاسوۃ الحسنہ: 452) امام نواب صدیق حسن رحمۃ اللہ علیہ:۔ اگرچہ نواب صاحب کے پہلے اور دوسرے دور میں بہت فرق ہے۔ آخری دور میں تو وہ