کتاب: فتاوی نواب محمد صدیق حسن خان - صفحہ 370
([1]) سے نہیں نکالتا۔
[1] ۔ شیخ عبدالقادر جیلانی کا شمار کبار صوفیائے کرام میں ہوتا ہے۔ شیخ صاحب صوفی ہونے کے ساتھ ساتھ عالمِ دین اور مجتہد انسان تھے۔ بعض لوگوں نے ان کے متعلق بہت سی خرافات ان کے ذمے لگا دی ہیں۔ جیسا کہ امام ذہبی نے اپنی کتاب سیر اعلام النبلاء میں ذکر کیا ہے۔ اگرچہ شیخ صاحب نے اصحاب ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کو فرقہ مرجئہ میں شمار کر دیا تو حقیقت میں ان کا یہی موقف تھا۔ بعض الناس نے غنیۃ الطالبین شیخ صاحب کی کتاب ہونے کا انکار کیا ہے۔ ہم دلائل سے ان کی کتاب ہونے کا ذکر کرتے ہیں۔ امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ جو اسلام کے ایک عظیم مصلح گزرے ہیں، انہوں ہر دور کے فتنے کا مقابلہ کیا۔ اپنی کتاب الفتویٰ الحمویۃ الکبریٰ میں اللہ تعالیٰ کی صفت کے سلسلہ میں حضرت جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب کا حوالہ دے کر نقل کرتے ہیں کہ تفصیل غنیۃ الطالبین میں عربی صفحہ 48 اردو صفحہ 145 نفیس اکیڈمی میں دیکھی جا سکتی ہے۔ "من متاء خريهم الشيخ الامام ابو محمد عبد القادر بن ابى صالح جيلانى رحمة الله عليه" وغیرہ، اگر یہ کتاب حضرت شیخ کی نہ ہوتی تو امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کبھی اس کا حوالہ نہ دیتے بلکہ اس کی تردید کرتے کہ کتاب فلاں بزرگ کی ہے کیونکہ ان کی تحقیق اہل سنت کے نزدیک مسلمہ ہے تحقیق کا سلسلہ میں حیات ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے ۔۔ امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ جو رجال میں ید طولیٰ رکھتے ہیں اور ان کی بات تقریبا حرف آخر گردانی جاتی ہے وہ میزان الاعتدال جلد اول میں پیر صاحب کی کتاب العینیۃ کا تذکرہ کرتے ہیں۔ (میزان الاعتدال جلد 1/200 ہندی مصری و طبع اثریہ 1/431)