کتاب: فتاوی نواب محمد صدیق حسن خان - صفحہ 337
آئے اور اس قسم کی باتیں اپنی تصانیف میں بہت کیں حتیٰ کہ ان کے شاگرد ابوبکر بن عربی نے ان کی کمال تعظیم کے باوجود کہا کہ: ہمارے استاد ابو حامد رحمہ اللہ فلاسفہ کے اندر داخل ہوئے پھر نکلنا چاہا لیکن نکل نہ سکے۔
میں کہتا ہوں:
ان کی کتاب تہافت الفلاسفہ اور احیاء علوم الدین اس کے برخلاف پکارتی ہیں، انتہیٰ۔ لیکن ابو الفرج ابن الجوزی نے خفاجی کا تعاقب کیا اور کہا میں نے ان کی کتاب کی اغلاط جمع کیں اور اس کا نام ’’اعلام الاحیاء باغلاط الاحیاء‘‘ رکھا اور ان کی بعض اغلاط کی جانب کتاب ’’تلبیس ابلیس‘‘میں اشارہ کیا، انتہیٰ۔ اور ابو المظفر سبط ابن جوزی نے کہا: احیاء کی بنا صوفیاء کے مذہب پر رکھی اور فقہ کا قانون ترک کیا، تو علماء نے اس کی ان احادیث پر جو صحیح نہیں انکار کیا، لیکن بعض متاخرین نے بحکم " خذ ما صفا ودع ما كدر ([1])" ان کی تصانیف، خصوصا احیاء کی تنقیح کی ہے اور اس کے موضوع کو صحیح، حسن اور ضعیف سے علیحدہ کیا اعرابی نے احیاء کی دو طرح کی تخریج کی ایک کبیر اور دوسری صغیر لکھی ہیں اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے عراقی کی تخریج سے جو چھوٹ گیا اس کا تدارک کیا اور اس پر ایک تخریج مسمی " تحفة الاحياء " تصنیف شیخ زید الدین قاسم بن قطلوبغا حنفی مصری کی ہے جن کی وفات 879ھ میں ہوئیں۔
احیاء میں چار فاسد مواد:
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے یہ جو فرمایا کہ غزالی کی کلام میں، ابن سینا کے شفا وغیرہ میں رسائل اخوان الصفا اور ابو حیان توحیدی کے کلام کے سبب مادہ فلسفیہ ہے لیکن مادہ معتزلیہ اس کے کلام میں قلیل ہے یا معدوم ہے اور احیاء میں اس کی کلام اکثر درست ہے، لیکن اس میں چار مادے فاسد ہیں۔ ایک: مادہ فلسفی۔ دوسرا: مادہ کلامی۔ تیسرا: مادہ صوفیاء کا ترھات (و شطحیات) چوتھا مادہ: احادیث موضوعہ ([2]) انتہیٰ۔ سو شک
[1] ۔یعنی اچھا اچھا لے لو، برا چھوڑ دو۔ (خلیق)
[2] ۔علامہ عبدالحئی لکھنوی کہتے ہیں کہ
الا ترى الى نقل صاحب احياء علوم الدين مع جلاله قدرة او رد فى كتابه احاديث لا اصل لها فلم يعتبر بها كما يظهر من مطالعة تخريج احاديث للحافظ عراقى وهذا صاحب الهدايه مع كونه من اجلة الحنيفة اود فيها اخياء غير به و ضعيفة فلم يعتمد عليها كما يظهر من مطالعة تسخير ۔۔۔۔احاديثها للزعلهى و ابن حجر ور الاخوار 58 فى مجموعة رسائل الحسن
کیا تم احیاء العلوم الدین کے مصنف (امام غزالی) کو نہیں دیکھئے یہ جلیل القدر ہونے کے باوجود اپنی کتاب میں ایسی روایات لانے میں جن کی کوئی اصل نہیں پس ان پر اعتماد نہیں کیا جائے گا جیسے کہ حافظ عراقی کی تخریج احادیث کے مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے۔
علامہ تاج الدین سبکی نے احیاء العلوم کی ان احادیث کو ایک جگہ جمع کر دیا ہے جو بے اصل ہیں اور ان کی تعداد تقریبا 943 طبقات الشافیہ 145-181 ج 4، علامہ طرطوشی فرماتے ہیں کہ سطح زمین پر جس قدر کتب ہیں ان میں سب سے زیادہ موضوع روایات احیاء العلوم میں پائی جاتی ہیں۔ سیر اعلام البنلاء د امام ذہبی 19/334،339،342،495۔
1۔ امام ابن جوزی احیاء العلوم پر کچھ یوں تبصرہ فرماتے ہیں کہ بعض صوفی بوجہ کم علمی کے جو موضوع احادیث ان کو ملتی ہیں انہیں پر عمل کرتے ہیں اور کچھ خیال نہیں رکھتے۔
2۔ حدود تصوف میں اشیاء قبیح کا ذکر کیا اور اس بات سے ذرا شرم نہ آئی۔ 229-228
3۔ محمد بن طاہر مقدسی نے صفوۃ التصوف لکھی اس میں ایسی چیزیں بیان کی جن کے ذکر کرنے سے اہل عقل کو حیاء آتی ہے۔ 230
ابو حامد غزالی نے اگر قوم صوفیہ کے طریقہ پر کتاب احیاء العلوم تصنیف کی اور اس کو باطل احادیث سے بھر دیا جن کا بطلان وہ خود نہیں جانتے اور علم مکاشفہ میں گفتگو کی اور قانون فقہ سے باہر ہو گئے اس میں لکھا ہے کہ وہ ستارہ، سورج اور چاند جن کو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دیکھا ان سے مواد انوار ہیں۔
جو اللہ تعالیٰ عزوجل کے حجاب میں یہ مشہور چاند، سورج، ستارے مراد نہیں، غزالی کا یہ کلام باطنیہ کے کلام کی قسم سے ہے۔ اور اپنی کتاب المسح بالاحوال میں لکھتے ہیں صوفیہ حالت بیداری میں ملائکہ اور ارواح انبیاء کا مشاہدہ کرنے میں اور ان کی آوازیں سنتے ہیں اور فوائد اخذ کرتے ہیں۔ (تلبیس ابلیس 230 نور محمد کراچی)
(جاوید)