کتاب: فتاوی نواب محمد صدیق حسن خان - صفحہ 322
وہ اس طرح سمجھ رہے ہیں کہ حافظ ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ کی مراد نماز کے بعد دعا کی نفی کرنا ہے ۔۔۔ مگر یہ درست نہیں ([1]) بلکہ ان کی کلام کا حاصل یہ ہے کہ: نمازی کا سلام کے فورا بعد رو بقبلہ بیٹھ کر بقید استمرار دعا نہیں کرنی چاہیے لیکن امام اگر اپنا چہرہ پھیر کر پہلے اذکار مشروعہ پڑھ کر دعا کرے تو ان کے نزدیک بھی منع نہیں ہے، انتہی۔
اگر یہ مفہوم درست ہو جائے تو کوئی نزاع نہیں رہتا، لیکن حافظ ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ کی کلام معنی اول میں ظاہر ہے۔ واللہ اعلم۔
(والله المعين)
[1] فرض نماز کے بعد دعا کا واقعہ:
البدایۃ والنھایۃ 6/328 میں حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ حضرت علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کے تذکرے میں فرماتے ہیں کہ:
علاء الحضرمى من سادات الصحابة العلماء العباد مجابى الدعوة کہ حضرت علاء رضی اللہ عنہ علماء عابدین اور سادات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں تھے اور مستجاب الدعوات تھے۔
پھر بحرین کے مرتدین کے خلاف جنگ کے ایام میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی پریشانی کے ذکر کے بعد فرماتے ہیں:
و نودى بصلوة الصبح حين طلع الفجر فصلى بالناس فلما قضى الصلوة جثا على ركبتيه و جثا الناس ونصب فى الدعاء ورفع يديه و فعل الناس مثله حتى طلعت الشمس و جعل الناس ينظرون الى سراب الشمس يلمع مرة بعد اخرى وهو يجتهد فى الدعاء۔
اور طلوع فجر کے وقت اذان دی گئی تو انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ جب نماز پوری کر لی تو گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور لوگ بھی گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور ہاتھ اٹھا کر (خشوع و خضوع) سے دعا میں مشغول ہو گئے۔ لوگوں نے بھی ساتھ ہی ہاتھ اٹھائے اور دعا مانگنی شروع کی، حتیٰ کہ آفتاب طلوع ہو گیا۔ لوگ سورج کی کرنوں کو چمکتا دیکھتے اور حضرت علاء رضی اللہ عنہ دعا میں پورے انہماک سے مشغول رہے۔