کتاب: فتاوی نواب محمد صدیق حسن خان - صفحہ 308
شک تیرے رب نے چاہا کہ یہ لوگ ہمیشہ دوزخ میں اور یہ ہمیشہ ([1]) جنت میں رہیں۔ امام ابن جریر طبری نے بھی اس آیت کے بیان میں ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ: اللہ تعالیٰ نے آگ سے مشروط رکھا کہ ان کے چہروں کو کھائے۔ اور ابو الشیخ نے سدی سے اس آیت کی تفسیر میں کہا اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی مشئیت سے وہ حکم آیا جس نے اس آیت کو منسوخ کر دیا سو اللہ تعالیٰ نے مدینہ میں یہ آیت نازل فرمائی: ﴿إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَظَلَمُوا لَمْ يَكُنِ اللَّـهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ وَلَا لِيَهْدِيَهُمْ طَرِيقًا ﴿١٦٨﴾ ۔۔۔ (سورة النساء: 168) "بےشک جن لوگوں نے کفر کیا اور ظلم کیا انہیں اللہ تعالیٰ ہرگز ہرگز نہ بخشے گا اور نہ انہیں کوئی راہ دکھائے گا۔‘‘
[1] (1) جیسا کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: يدخل أهل الجنة الجنة ، ويدخل أهل النار النار ، ثم يقوم مؤذن بينهم ، فيقول : يا أهل الجنة ، لا موت ، ويا أهل النار ، لا موت. كلّ خالد فيما هو فيه۔ (مسند احمد حدیث 6139) جنت والے جنت میں اور دوزخ والے دوزخ میں چلے جائیں گے۔ پھر ان سے ایک آواز دینے والا کھڑا ہو گا اور کہے گا اہل جنت اب موت نہیں ہے اہل دوزخ اب موت نہیں ہے ہر کوئی اس میں رہے گا جس میں ہے۔ (مسند احمد 9/10 احمد شاکر) (2) اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اذا اصار أهل الجنة الجنة و أهل النار النار جئى بالموت حتى توقف بين الجنة والنار ثم يذبح ثم ينادى اهل الجنة خلود لا موت يا اهل النار خلود لا موت داد أهل الجنة فرحًا إلى فرحهم، وازداد أهل النار حزنًا إلى حزنهم۔ (فتح الباری 11/361،62) اہل جنت، جنت میں اور اہل دوزخ جب دوزخ میں داخل کئے جائیں گے تو موت کو لا کر جنت دوزخ کے درمیان ذبح کر دیا جائے گا پھر پکارا جائے گا جنت والے جنت میں اور دوزخ والے دوزخ میں فرق یہ کہ اہل جنت کو فرحت، اہل دوزخ کو غم ملے گا"۔ (مزید تفصیل سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم 4/731 تا 744) (جاوید)