کتاب: فتاوی نواب محمد صدیق حسن خان - صفحہ 291
عبدالعزيز بن محمد صدوق و كان يحدث عن كتب غيره و يخطي، وقال النسائي حديثه عن عبيدالله العمري منكر من الثامنة (التقريب 328) ’’عبدالعزیز بن محمد صدوق ہے لیکن کتب غیر سے حدیث بیان کرتا اور غلطی کرتا تھا۔ امام نسائی نے کہا، اس کی حدیث عبیداللہ العمری سے منکر ہے، طبقہ ثامنہ میں سے ہے۔‘‘
و اسيد بن ابي اسيد البراد من الخامسة مات في اول خلافة منصور (التقريب 347)
اور یہاں ([1]) عبدالعزیز بن محمد کی اسید بن ابی اسید سے روایت معنعن ہے ان کی ملاقات کا ثبوت درکار ہے خواہ ایک ہی مرتبہ ہو تو انقطاع محتمل ہے، سو خطا اور انقطاع کے احتمال کے سبب روایت قابل احتجاج نہیں رہی۔
دوسرا طریق یہ ہے:
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنِ امْرَأَتِهِ، عَنْ أُخْتٍ لِحُذَيْفَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، أَمَا لَكُنَّ فِي الْفِضَّةِ مَا تَحَلَّيْنَ بِهِ، أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ مِنْكُنَّ امْرَأَةٌ تَحَلَّى ذَهَبًا تُظْهِرُهُ، إِلَّا عُذِّبَتْ بِهِ. انتهي (ابوداؤد 4؍436، نسائی 8؍157، مسند احمد 6؍357، مصابیح 3؍210 قال الالبانی فی اسنادہ ضعف، مشکوٰۃ 2؍1257)
’’ربعی بن حراش رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ سے روایت کی ہے کہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ
[1] ۔ عبدالعزیز بن محمد کی معنعن روایت اس وقت غیر معتبر ہو گی جبکہ متہم بالتدلیس ہو، لیکن عبدالعزیز مذکور مدلس نہیں ہے (تقریب) نیز شیخ البانی نے اسے صحیح ابوداؤد ج 2/3565 میں ’’حسن‘‘ کہا ہے۔ اور اس کے مزید متابعات آداب الزقاف ص 133 میں نقل کئے ہیں۔ (خلیق)