کتاب: فتاوی ابن باز - صفحہ 96
ایسا کہنا جائز نہیں بلکہ حرام ہے۔ اس کی دلیل حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (أِذَا قَال الرَّجُلُ لَأَخِیہِ: یَا کَافِرُ فَقَدْ بَائَ بِھَا أَحَدُھُمَا فَأِنْ کَانَ قَالَ وَأِلَّا رَجَعَتْ عَلَیْہِ) ’’جب کوئی شخص اپنے بھائی کو کہتا ہے، او کافر! تو یہ لفظ ان میں سے کسی ایک پر صادق آتا ہے۔ اگر (جسے کہاگیا ہے) وہ ایسے ہی ہے جیسا کہ کہا گیا (پھر تو وہ کافر ہے ہی) ورنہ یہ (لفظ) کہنے والے پر لوٹ آتا ہے‘‘ (متفق علیہ)[1] حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوے سنا: ’’جو شخص اپنے بھائی کو کفر کے لفظ کے ساتھ بلاتا ہے (اسے کافرکہتاہے) یا کہتا ہے ’’اور اللہ کے دشمن! اور (جسے کہاگیا ہے) وہ ایسا نہیں ہے تو یہ بات کہنے والے پر پلٹ آتی ہے۔‘‘ (متفق علیہ) [2] وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَسَلَّمَ اللجنۃ الدائمۃ ۔ رکن: عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان، نائب صدر: عبدالرزاق عفیفی، صدر عبدالعزیز بن باز ٭٭٭ فتویٰ (۹۲۳۲) کسی مسلمان بھائی کو کافر کہہ کر بلانا سوال ایک مسلمان بھائی کو کہتا ہے ’’اے کافر!‘‘ حالانکہ مخاطب پانچویں نمازیں پڑھتا ہے اور روزے بھی رکھتا ہے تو اس کا کیا حکم ہے؟ جزاکم اللہ خیراً اور یہ بھی فرمائیں کہ کثرت نسیان کا علاج کیا ہے؟’ جواب اَلْحَمْدُ للّٰہ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِہِ آلِہِ وَأَصْحَابِہ وَبَعْدُ: مسلمان کیلے جائز نہیں کہ اپنے بھائی کو کفر کی طرف منسوب کرے، جب کہ اس نے کفر کا کام نہ کیاہو۔ اس پر واجب ہے کہ توبہ کرے اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے اور اپنے بھائی سے بھی معذرت کرے۔ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی حرکت پھر ناراضگی کا اظہار فرمایا ہے۔ جیسا کہ صحیح احادیث میں مذکو رہے۔ دیر سے یاد ہونے اور بھول جانے کا علاج یہ ہے کہ تقویٰ اختیار کی جائے اور جس چیز کو یاد کرنا مقصود ہو اسے بار بار دہرایا جائے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی جائے کہ اللہ تعالیٰ اس کام میں مدد فرمائے۔ ہم‘ اپنے لئے اور آپ کیلئے دعا کرتے ہیں کہ اللہ آپ کو توفیق بخشے کہ آپ اپنا مقصد حاصل کرسکیں۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَسَلَّمَ اللجنۃ الدائمۃ ۔ رکن: عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان، نائب صدر: عبدالرزاق عفیفی، صدر عبدالعزیز بن باز ٭٭٭ [1] صحیح بخاری حدیث نمبر: ۶۱۰۴۔ جامع ترمذی حدیث نمبر: ۲۶۳۹ [2] صحیح بخاری حدیث نمبر: ۱۶۰۴۵۔ صحیح مسلم حدیث نمبر: ۶۱۔ سنن ابی داؤد حدیث نمبر: ۴۶۸۷۔