کتاب: فتاوی ابن باز - صفحہ 92
مزید ارشاد الٰہی ہے: ﴿وَ لَمَّا جَآئَ ہُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَہُمْ نَبَذَ فَرِیْقٌ مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ کِتٰبَ اللّٰہِ وَرَآئَ ظُہُوْرِہِمْ کَاَنَّہُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ ﴾ (البقرۃ۲؍۱۰۱) ’’جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے ایک رسول اس چیز کی تصدیق کرتا ہوا آیا جو ان کے پاس موجود ہے، تو جنہیں کتاب دی گئی تھی ان کے ایک گروہ نے اللہ کی کتاب کو پس پشت ڈال دیا گویا کہ وہ (اسے) جانتے ہی نہیں۔‘‘ ایک اور مقام پر ارشاد ہے: ﴿لَمْ یَکُنْ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ وَالْمُشْرِکِیْنَ مُنفَکِّیْنَ حَتّٰی تَاْتِیَہُمُ الْبَیِّنَۃُ ٭ رَسُوْلٌ مِّنْ اللّٰہِ یَتْلُوْا صُحُفًا مُّطَہَّرَۃً ﴾ ’’اہل کتاب اور مشرکین میں جو کافر ہوئے ہو باز آنے والے نہیں تھے حتیٰ کہ ان کے پاس واضح دلیل آجاتی اللہ کی طرف سے ایک رسول جو پاکیزہ صحیفے پڑھتا ہے۔‘‘ لہٰذا ایک عقل مند آدمی‘ جسے ان کا باطل پر اڑنا، جان بوجھ کر گمراہی میں آگے بڑھتے چلے جانا، حسد اور خواہشات نفسانی کی وجہ سے حق کو قبول نہ کرنا معلوم ہو، کس طرح امید کرسکا تہے کہ اس قسم کے افراد اور سچے مسلمان ایک دوسرے کے قریب آسکتے ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَفَتَطْمَعُوْنَ اَنْ یُّؤْمِنُوْا لَکُمْ وَ قَدْ کَانَ فَرِیْقٌ مِّنْہُمْ یَسْمَعُوْنَ کَلٰمَ اللّٰہِ ثُمَّ یُحَرِّفُوْنَہٗ مِنْ بَعْدِ مَا عَقَلُوْہُ وَ ہُمْ یَعْلَمُوْنَ﴾ (البقرۃ۲؍۷۵) ’’(اے مومنو!) کیا تم یہ امید رکھتے ہو کہ وہ تمہاری بات مان لیں گے حالانکہ ان میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ کا کلام سنتے ہیں پھر اسے سمجھنے کے بعد اس میں تحریف کردیتے ہیں، حالانکہ وہ جانتے ہوتے ہیں‘‘ اور فرمایا: ﴿اِنَّآ اَرْسَلْنٰکَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا وَّ لَا تُسْئَلُ عَنْ اَصْحٰبِ الْجَحِیْم٭ وَ لَنْ تَرْضٰی عَنْکَ الْیَہُوْدُ وَ لَا النَّصٰرٰی حَتّٰی تَتَّبِعَ مِلَّتِہُمْ قُلْ اِنَّ ہُدَی اللّٰہِ ہُوَ الْہُدٰی وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَہْوَآئَ ہُمْ بَعْدَ الَّذِیْ جَآئَ کَ مِنَ الْعِلْمِ مَالَکَ مِنَ اللّٰہِ مِنْ وَّلِیِّ وَّ لَا نَصِیْر﴾ (البقرۃ۲؍۱۱۹۔۱۲۰) ’’ہم نے آپ کو حق کے ساتھ خوشخبری دینے والا اور تنبیہ کرنے والا بنا کر بھیجا ہے اور آپ سے جہنم والوں کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا اور آپ سے یہودونصاریٰ کبھی راضی نہیں ہوسکتے حتیٰ کہ آپ ان کی ملت (مذہب وتہذیب) کی پیروی کرلیں اور اگر آپ نے اس علم کے بعد بھی‘ جو آپ کے پاس آچکا ہے۔ ان کی خواہشات نفس کی پیروی کی تو اللہ سے آپ کا کوئی دوست یامددگار (آپ کو بچانے والا) نہیں ہوگا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿کَیْفَ یَہْدِی اللّٰہُ قَوْمًا کَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِہِمْ وَ شَہْدِوْٓا اَنَّ الرَّسُوْلَ حَقٌّ وَّ جَآئَ ہُمُ الْبَیِّنٰتُ وَ اللّٰہُ لَا یَہْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ﴾ (آل عمران۳؍۸۶) ’’اللہ ان لوگوں کو کیسے ہدایت دے گا جنہوں نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا وار انہوں نے یہ گواہی بھی دی کہ رسول سچا ہے اور ان کے پاس واضح دلائل آچکے اور اللہ تعالیٰ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔‘‘