کتاب: فتاوی ابن باز - صفحہ 89
وعدے کی ہرگز خلاف ورزی نہیں فرمائیں گے، یا تم اللہ کے متعلق وہ کچھ کہہ رہے ہو جس کا تمہیں علم نہیں؟‘‘ نیز فرمایا: ﴿وَ قَالُوْا لَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّۃَ اِلَّا مَنْ کَانَ ہُوْدًا اَوْ نَصٰرٰی تِلْکَ اَمَانِیُّہُمْ قُلْ ہَاتُوْا بُرْہَانَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ﴾ (البقرۃ۲؍۱۱۱) ’’وہ کہتے ہیں کہ جنت میں صرف وہی داخل ہو گا جو یہودی یا عیسائی ہوگا۔ یہ ان کی (بے بنیاد) آرزوئیں ہیں، فرمائیے ’’اگر سچے ہو تو دلیل پیش کرو۔‘‘ اور ارشاد ربانی تعالیٰ ہے: ﴿وَ قَالُوْا کُوْنُوْا ہُوْدًا اَوْ نَصٰرٰی تَہْتَدُوْا قُلْ بَلْ مِلَّۃَ اِبْرٰہٖمَ حَنِیْفًا وَ مَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ٭ قُوْلُوْٓا اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَآ اُنْزِلَ اِلٰٓی اِبْرٰہٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ مَآ اُوْتِیَ مُوْسٰی وَ عِیْسٰی وَ مَآ اُوْتِیَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّہِمْ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْہُمْ وَ نَحْنُ لَہٗ مُسْلِمُوْنَ﴾ (البقرۃ:۲؍۱۳۵۔۱۳۶) ’’وہ کہتے ہیں ’’یہودی یا عیسائی ہو جاؤ‘ ہدایت پاؤ گے، کہہ دیجئے ’’بلکہ یک طرفہ (صرف ایک اللہ کی طرف مائل ہونے والے) ابراہیم کی ملت (اختیار کرو) وہ مشرکوں میں سے نہ تھے۔‘‘ تم کہو ’’ہم ایمان لے آئیں ہیں اللہ پر اور جو کچھ ہماری طرف نازل کیا گیا ہے اور جو ابراہیم‘ اسماعیل‘ اسحاق‘ یعقوب علیہ السلام اور (ان کی) اولاد کی طرف نازل کیا گیا ہے (اس پر بھی) اور جو کچھ موسیٰ اور عیسیٰ علیہ السلام کو ملااور جو (دوسرے تمام) انبیوں کو ان کے رب کی طرف سے ملا (ہم سب پر ایمان لاتے ہیں) ہم ان میں سے کسی ایک میں بھی فرق نہیں کرتے اور ہم اسی (اللہ) کے فرمانبردار ہیں۔‘‘ ﴿وَ اِنَّ مِنْہُمْ لَفَرِیْقًا یَّلْوٗنَ اَلْسِنَتَہُمْ بِالْکِتٰبِ لِتَحْسَبُوْہُ مِنَ الْکِتٰبِ وَ مَا ہُوَ مِنَ الْکِتٰبِ وَ یَقُوْلُوْنَ ہُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ وَ مَا ہُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ وَ یَقُوْلُوْنَ عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ وَ ہُمْ یَعْلَمُوْنَ﴾ (آل عمران۳؍۷۸) ’’اور ان میں سے کچھ افراد ایسے ہیں جو زبانیں موڑ کر ایک تحریر پڑھتے ہیں تاکہ تم اسے (اللہ کی طرف سے نازل شدہ ) کتاب سمجھ لو، حالانکہ وہ کتاب میں سے نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں ’’یہ اللہ کے پاس سے (نازل شدہ) ہے حالانکہ وہ اللہ کے پاس سے نہیں ہے اور وہ اللہ پر جھوٹ بولتے ہیں حالانکہ انہیں معلوم ہے۔‘‘ ایک اور مقام پر ارشاد ہے: ﴿فَبِمَا نَقْضِہِمْ مِّیْثَاقَہُمْ وَ کُفْرِہِمْ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَ قَتْلِہِمُ الْاَنْبِیَآئَ بِغَیْرِ حَقٍّ وَّ قَوْلِہِمْ قُلُوْبُنَا غُلْفٌ بَلْ طَبَعَ اللّٰہُ عَلَیْہَا بِکُفْرِہِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا٭وَّ بِکُفْرِہِمْ وَ قَوْلِہِمْ عَلٰی مَرْیَمَ بُہْتَانًا عَظِیْمًا٭ وَّ قَوْلِہِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللّٰہِ وَ مَا قَتَلُوْہُ وَ مَا صَلَبُوْہُ وَ لٰکِنْ شُبِّہَ لَہُمْ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْہِ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ مَا لَہُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَ مَا قَتَلُوْہُ یَقِیْنًا٭ بَلْ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ وَ کَانَ اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا﴾ (النساء۴؍۱۵۵۔۱۵۸) ’’ (ہم نے ان لعنت کی) کیونکہ انہوں نے اپنا وعدہ توڑا اور اللہ کی آیات کا انکار کیا اور انبیاء کو ناحق قتل کیااور