کتاب: فتاوی ابن باز - صفحہ 88
نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی صحیح سند سے مروی ہے ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (أَنَا أَوْلَی النَّاسِ بِعِیسَی ابْنِ مَرْیَمَ فِی الدُّنْیَا والْآخِرَۃِ، الأَنْبِیَائُ أِخْوَۃٌ لِعَلَّاتِ أُمَّھَاتِھِمْ شَتَّی وَدِینُھُمْ وَاَحِدٌ) ’’میں دنیا اور آخرت میں عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام سے سب لوگوں کی نسبت زیادہ قریب ہوں۔ تمام نبی سوتیلے بھائیوں کی طرح ہیں، ان کی مائیں الگ الگ ہیں اور ان کا دین ایک ہے ہے‘‘ (صحیح بخاری) (۲) یہودونصاریٰ نے اللہ کے کلام میں تحریف کی اور جوبات انہیں کی گئی تھی‘ اس کو چھوڑ کر دوسری بات کہنے لگے، اس طرح دین کے بنیادی عقائدش اور عملی شریعت کو کچھ کا کچھ بنادیا۔ مثلاً یہود کہتے ہیں کہ عزیز اللہ کے بیٹے ہیں اور کہتے ہیں ’’کہ اللہ تعالیٰ چھ دن میں زمین آسمان پیدا کرکے تھک گیا، اس لئے ہفتہ کے دن آرام کیا، اور کہتے ہیں کہ م نے عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پر چڑھایا اور قتل کردیا۔‘‘ اس کے علاوہ انہو ں نے حیلہ کر کے ہفتہ کے دن مچھلی کا شکار جائز کر لیا، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے حرام کیا تھا اور شادی شدہ زانی کی حد ختم کردی اور انہوں نے کہا: ﴿اِنَّ اللّٰہَ فَقِیْرٌ وَّ نَحْنُ اَغْنِیَآئُ﴾ (آل عمران۳؍۱۸۱) ’’اللہ مفلس ہے او رہم دولت مند ہیں۔‘‘ اور کہا: ﴿یَدُ اللّٰہِ مَغْلُوْلَۃٌ ﴾ (المائدۃ۵؍۶۴) ’’اللہ کا ہاتھ بندھا ہوا ہے۔‘‘ اس طرح خواہش نفس کی پیروی کرتے ہوئے جان وووجھ کر قولی اور عملی تحریف کے مرتکب ہوئے۔ اسی طرح عیسائیوں نے مسیح اللہ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا اور الٰہ (معبود) قرار دیا اور عیسیٰ علیہ السلام کے قتیل یا صلیب کے عقیدہ میں یہود کی تصدیق کی اور دونوں گروہوں (یہودونصاریٰ) نے خود کو اللہ کے بیٹے اور پیارے ’’قرار دیا‘‘ اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور انکی شریعت کا انکار کیا، حالانکہ ان سے عہدوپیمان لیا گیا تھا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کری گے اور آپ کی مدد کریں گے۔ انہوں نے اس کا اقرار کیا تھا۔ اس کے علاوہ دونوں گروہوں کے اور بھی بہت سے ناگفتہ بہ عقائد ہیں، جن میں تناقص بھی پایا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بپت سے مقامات پر ان کے جھوٹ‘ افتراء پردازی‘ اللہ کے نازل کردہ عقائد اور عملی احکام میں تحریف وغیرہ کا ذکر فرمایاہے اور انکی بدکرداریوں کو واضح کر دیا ہے اور انا کے اقوال کی تردید فرمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ یَکْتُبُوْنَ الْکِتٰبَ بِاَیْدِیْہِمْ ثُمَّ یَقُوْلُوْنَ ہٰذَا مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ لِیَشْتَرُوْا بِہٖ ثَمَنًا قَلِیْلاً فَوَیلٌ لَّہُمْ مِّمَّا کَتَبَتْ اَیْدِیْہِمْ وَ وَیلٌ لَّہُمْ مِّمَّا یَکْسِبُوْنَ٭ وَ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّآ اَیَّامًا مَّعْدُوْدَۃً قُلْ اَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللّٰہِ عَہْدًا فَلَنْ یُّخْلِفَ اللّٰہُ عَہْدَہٗٓ اَمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَی اللّٰہِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ﴾ (البقرۃ:۲؍۷۹۔۸۰) ہلاکت ہے ان لوگو ں کیلئے جو (خود) اپنے ہاتھوں سے تحریرلکھتے ہیں پھر کہتے ہیں ’’یہ اللہ کی طرف سے (نازل شدہ) ہے‘‘ تاکہ اس سے تھوڑی سی اجرت حاصل کر لیں۔ تو ان کے لئے ہلاکت ہے اس چیز کی وجہ سے جو ان کے ہاتھوں نے لکھی اور ان کے لئے ہلاکت ہے اس چیز کی وجہ سے جو وہ کھاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں آگ نہیں چھوئے گی مگر چند روز۔ فرمادیجئے ’’کیا تم نے اللہ سے عہد لے رکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے