کتاب: فتاوی ابن باز - صفحہ 87
نہیں کیا جائے گا اور وہ آخر ت میں خسارہ پانے والوں میں سے ہوگا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی دعوت توحید کا ذکر فرمایا اور دوسرے رسولوں کا ذکر فرمایا، پھر ارشاد فرمایا: ﴿اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰہُمُ الْکِتٰبَ وَ الْحُکْمَ وَ النُّبَوَّۃَ فَاِنْ یَّکْفُرْبِہَا ہٰٓؤُلَآئِ فَقَدْ وَکَّلْنَا بِہَا قَوْمًا لَّیْسُوْا بِہَا بِکٰفِرِیْنَ٭ اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ ہَدَی اللّٰہُ فَبِہُدٰیہُمُ اقْتَدِہْ قُلْ لَّآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْرًا اِنْ ہُوَ اِلَّا ذِکْرٰی لِلْعٰلَمِیْنَ﴾ (المائدۃ ۶؍۸۹۔۹۰) ’’یہ وہ لوگ ہیں جن کو ہم نے کتاب‘ حکم اور نبوت دی۔ پھر اگر یہ لوگ (مکہ والے) ان (باتوں) کا انکار رکتے ہیں تو ہم نے ان پر (ایمان لانے) کیلئے ایسے لوگ مقرر کردئیے ہیں جو ان کے منکر نہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے راہ دکھلائی‘ لہٰذؤا تو ان کی ہدایت کی پیروی کر۔ فرمادیجئے’’میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجرت نہیں مانگتا یہ تو جہاں والوں کے لئے ایک نصیحت ہے۔‘‘ نیز ارشاد ہے: ﴿اِنَّ اَوْلَی النَّاسِ بِاِبْرٰہِیْمَ لَلَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُ وَ ہٰذَا النَّبِیُّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ اللّٰہُ وَلِیُّ الْمُؤْمِنِیْنَ﴾ (آل عمران۳؍۶۸) ’’ابراہیم( علیہ السلام )سے سب لوگو ں سے قریب تر وہ لوگ ہیں جنہوں نے ان کی پیروی کی اور یہ نبی اور ایمان والے اور اللہ مومنو ں کا دوست ہے۔‘‘ ایک اور مقام پر فرمایا: ﴿ثُمَّ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ اَنِ اتَّبِعْ مِلَّۃَ اِبْرٰہِیْمَ حَنِیْفًا وَ مَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْن﴾ (النحل ۱۶؍۱۲۳) ’’پھر ہم نے آپ کی طرف وحی کی کہ ابراہیم حنیف کی ملی کی پیروی کیجئے وہ مشرکوں میں سے نہ تھے۔‘‘ نیز ارشاد ہے: ﴿وَاِِذْ قَالَ عِیْسٰی ابْنُ مَرْیَمَ یَابَنِیْ اِِسْرَآئِیلَ اِِنِّی رَسُوْلُ اللّٰہِ اِِلَیْکُمْ مُصَدِّقًا لِمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرَاۃِ وَمُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ یَاْتِی مِنْ بَعْدِی اسْمُہُ اَحْمَدُ ﴾(الصف۶۱؍۶) ’’اور جب عیسیٰ بن مریم نے فرمایا:’’اے بنی اسرائیل میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں، اپنے سے پہلی والی چیز یعنی تورات کی تصدیق کرتا ہوں اور ایک رسول کی خوشخبری دیتا ہوں جو میرے بعد آئے گا، اس کا نام محمد ہے۔‘‘ نیز فرمان الٰہی ہے: ﴿وَ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ مِنَ الْکِتٰبِ وَ مُہَیْمِنًا عَلَیْہِ فَاحْکُمْ بَیْنَہُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ وَ لَا تَتَّبِعْ اَہْوَآئَ ہُمْ عَمَّا جَآئَ کَ مِنَ الْحَقِّ لِکُلٍّ جَعَلْنَا مِنْکُمْ شِرْعَۃً وَّ مِنْہَاجًا ﴾ (المائدۃ۵؍۴۸) ’’ہم نے آپ کی طرف حق کے ساتھ کتاب نازل کی ہے، جو اپنے سے پہلی والی کتاب کی تصدیق کرنے والی ہے جو ان کی محافظ ہے۔ لہٰذا ان کے درمیان اس (رہنمائی) کے مطابق فیصلہ کیجئے جو اللہ نے نازل کی ہے اور آپ کے پاس جو حق آگیا ہے اسے چھوڑ کر ان کی خواہشتا کی پیروری نہ کیجئے ہم نے سب کے لئے ایک شریعت اور راستہ مقرر کیا ہے۔‘‘