کتاب: فتاوی ابن باز - صفحہ 79
جھوٹ بولنا حرام ہے۔ اس کے متعلق قرآن وحدیث کے بہت سے دلائل موجود ہیں۔ مثلاً ارشاد ربانی تعالیٰ ہے: ﴿یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَکُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ﴾ ’’اے مومنو! اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کے ساتھ ہوجاؤ‘‘( التوبہ ۹/ ۱۱۹)اور ارشاد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہے: (أِیَّاکُمْ وَالْکَذِبَ فَأِنَّ الْکَذِبَ یَھْدِی أِلَی الْفُجُورِ وَالْفُجُورُ یَھْدِی أِلَی النَّارِ) ’’جھوٹ سے بچو، کیونک جھوٹ گناہ کی طر ف لے جاتا ہے اور گناہ جہنم کی طرف لے جاتا ہے‘‘ یہ حدیث بخاری اور مسلم نے روایت کی ہے۔[1] اس حیلہ اور جھوٹ کے ذریعہ ان سے مال لینا حرام ہے اور جو لیا جاچکا ہے اسے واپس کرنا واجب ہے،اگر جس سے لیا ہے اسے واپس کرنا ممکن نہ ہوتو، واجب ہے کہ غریبوں پر خرچ کردیا جائے یا کسی خیراتی پروگرام میں لگا دیا جائے اور اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کی جائے۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَسَلَّمَ اللجنۃ الدائمۃ ۔ رکن: عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان، نائب صدر: عبدالرزاق عفیفی، صدر عبدالعزیز بن باز ٭٭٭ فتویٰ(۲۴۹۵) کافرومشرک کا کسی اسلامی ملک کی شہریت حاصل کرنا سوال: کسی کافر شخص کا اسلامی ملک کی شہریت حاصل کرنے کا کیا حکم ہے؟ جواب اَلْحَمْدُ للّٰہ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِہِ آلِہِ وَأَصْحَابِہ وَبَعْدُ: اگر کوئی غیر مسلم ملک کی شہریت حاصل کرتا ہے تو یہ جائز ہے۔ بشرطیکہ اس سے فتنہ کا خطرہ نہ ہو اور اس سے بھلائی کی امد زیادہ ہو۔ البتہ اسے جزیرہ عرب میں رہائش اختیار کرنے کی اجازت اسی وقت دی جاسکتی ہے جب وہ اسلام قبول کرلے۔ کیونکہ صحیح بخاری کی روایت ہے: (أَرْصٰی بِأِْخْراجِ الْمُشْرِکِینَ مِنْ جَزِیْرَۃِ الْعَرَبِ) کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکوں کو جزیرہ عرب سے باہر نکال دینے کا حکم دیا تھا۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَسَلَّمَ اللجنۃ الدائمۃ ۔ رکن: عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان، نائب صدر: عبدالرزاق عفیفی، صدر عبدالعزیز بن باز ٭٭٭ فتویٰ (۹۲۷۲) مجبوراً خود کو کافر ظاہر کرنا سوال کیا عملی طور پر مجبور کئے جانے کی بنا پر خود کو کافر ظاہر کرنا جائز ہے؟ [1] صحیح بخاری حدیث نمبر: ۶۰۹۴۔ صحیح مسلم حدیث نمبر: ۲۶۰۶