کتاب: فتاوی ابن باز - صفحہ 69
ہے، مثلاً اسے سلام کہنے میں پہل نہ کی جائے، اس سے مسلمان عورت کا نکاح نہ کیاجائے۔ مسلمان کے ترکہ میں سے اسے حصہ نہ دیا جائے اور اس طرح کے دوسرے امور جن کے بارے میں صراحت سے ممانعت وارد ہے، ان سے پرہیز کیا جائے۔ تفصیل کے لئے علامہ ابن قیم الجوزیہ' کی کتاب ’’احکام اھل الذمۃ‘‘ اور دوسرے علماء کی کتابوں کا مطالعہ کریں۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَسَلَّمَ اللجنۃ الدائمۃ ۔ رکن: عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان، نائب صدر: عبدالرزاق عفیفی، صدر عبدالعزیز بن باز ٭٭٭ فتویٰ(۶۵۴۱) کافروں سے دوستی رکھنے والے رشتہ داروں سے میل جول رکھنا سوال کیا ان رشتہ داروں سے ملاقات کے لے جانا درست ہے جو کافروں سے محبت رکھتے ہی؟ جواب اَلْحَمْدُ للّٰہ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِہِ آلِہِ وَأَصْحَابِہ وَبَعْدُ: اگر ملاقات کے لئے جانے اولا انہیں نصیحت کرے، انہیں کافروں سے محبت ترک کرنے کی ترغیب دلائے اور انہیں بتائے کہ شریعت میں مومنوں سے دوستی اور کافروں سے بے تعلقی رکھنے کا کیا مطلب ہے، تاکہ انہیں اس مسئلہ میں اپنے فرض کا علم ہوجائے اور امید ہو کہ وہ اپنے دین کے احکام پر پختگی سے عمل کرنے لگیں اور غلط کام چھوڑدیں گے، تو اس حالت میں ان سے ملاقات کے لئے جانا جائز ہے۔ بلکہ بسا اوقات امر بالمعروف او رنہی عن المنکر کے لئے ان سے ملاقات کرنا واجب ہوتا ہے، رشتہ داروں کے بارے میں یہ کام کرنا زیادہ ضروری ہیں۔ کیونکہ ان سے صلہ رحمی بھی ضروری ہے اور شریعت کے احکام سے واقف کرنابھی۔ البتہ اگر کوئی شخص ان سے ملاقات کے وقت یہ فرض سرانجام نہیں دیتا تو اس کے لئے ان سے ملنے جانا جائز نہیں۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَسَلَّمَ اللجنۃ الدائمۃ ۔ رکن: عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان، نائب صدر: عبدالرزاق عفیفی، صدر عبدالعزیز بن باز ٭٭٭ فتویٰ (۸۰۹۷) عیسائیوں سے تعلق رکھنے کے لئے شرط سوال جہاں ہم کام کرتے ہیں وہاں بعض عرب عیسائی بھی کام کرتے ہیں۔ کبھی کبھار وہ ہمیں ملاقات کی دعوت دیتے ہیں۔ تو کیا ہم ان سے ملاقات کے لئے جاسکتے ہی؟ اور کیا ہم انہیں اپنے ہاں آنے کی دعوت دے سکتے ہی؟ جواب اَلْحَمْدُ للّٰہ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِہِ آلِہِ وَأَصْحَابِہ وَبَعْدُ: اگر آپ ان کے گھر ان سے ملنے کے لئے اس مقصد سے جاتے ہیں، یا انہیں اپنے ہاں آنے کی دعوت اس مقصد سے دیتے ہیں کہ انہیں اسلام کی دعوت دے سکیں اور ان کونصیت کر سکیں تو اسلام کی طرف بلانا ایک عظیم مقصد ہے۔ انہیں دعوت دینا یا ان کے مقام پر انہیں ملنے جانا اس عظیم مقصد کے حصول کا ایک ذریعہ ہے اور ذرائع کاحکم وہی ہوتا ہے جو مقاصد کا ہوتا ہے۔