کتاب: فتاوی ابن باز - صفحہ 68
مذکورہ بالا دلائل پر غور کرنے سے صاف واضح ہو جاتا ہے کہ یہ دعویٰ درست نہیں کہ اختلاط سے فتنہ پیدا نہیں ہوتا۔ یہ صرف بعض لوگوں کا قصور ہوسکتا ہے ورنہ حقیقت یہی ہے کہ اس سے فتنہ پیدا ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے شارع علیہ السلام نے اس سے منع فرمایا ہے تاکہ خرابی کی بنیاد ختم ہوجائے۔ یہ حکم واں نہیں ہوگا جاں مجبوری ہو یا سخت ضرورت ہو اور جو عبادت کی جگہ ہو جیسے حرم مدنی میں ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ گمراہ مسلمانوں کو ہدایت دے اور ہدایت یافتہ مسلمانوں کی ہدایت میں اضافہ فرمائے اورحکمرانوں کوا چھے کام کرنے، برے کامنوں سے روکنے اور کم عقلوں پر کنٹرول کرنے کی توفیق بخشے۔ آمین۔ (۴) غیر مسلم ایسی عمارت بناسکتا ہے جسے مسلمان مسجد کے طور پر استعمال کریں۔ اگر اس کا انتظام مسلمان کے ہاتھ ہونا ممکن ہو تو لازماً ایسے ہی ہونا چاہئے۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو پھر جس نے اسے تعمیر کیا ہے وہی اس کا انتظام بھی کرسکتاہے اگرچہ وہ غیر مسلم ہو۔ (۵) مسلمان کے لئے مستحب ہے کہ زکوٰۃ کے سوا دوسرا مال مسجدیں تعمیر کرنے یا دوسرے خیراتی پروگراموں میں خرچ کرے، یہ بہت ثواب کاکام ہے۔ البتہ زکوٰۃ کا مال صرف انہی آٹھ جگہوں پر خرچ کیا جاسکتا ہے جو قرآن مجید میں بیان ہوئی ہیں۔ (۶) غیر مسلموں کے لئے درست ہے کہ مسلمانوں کی مسجدوں اور مدرسوں وغیرہ پر خرچ کریں بشرطیکہ اس سے فائدہ سے زیادہ نقصان پہنچنے کا خطرہ نہ ہو۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَسَلَّمَ اللجنۃ الدائمۃ ۔ رکن: عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان، نائب صدر: عبدالرزاق عفیفی، صدر عبدالعزیز بن باز ٭٭٭ فتویٰ (۲۶۷۷) ذمی کے ساتھ تعلقات رکھنے کا طریقہ سوال ذمی کے ساتھ تعلقات رکھنے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟ ہم ان کے ساتھ معمول کے تعلقات رکھ سکتے ہیں؟ جواب اَلْحَمْدُ للّٰہ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِہِ آلِہِ وَأَصْحَابِہ وَبَعْدُ: ایک مسلمان کے ذمی کے ساتھ تعلقات رکھنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ اس کے بارے میں جو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں انہیں پورا کیا جائے۔ اس کی دلیل متعدد آیات واحادیث ہیں جن میں سے اہل ذمہ سے کیا ہوا عہد پورا کرنے اور ان سے عدل وانصاف سے مبنی رویہ رکھنے کا حکم ہے۔ ارشاد ربانی ہے: ﴿لَایَنْہٰکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوکُمْ فِی الدِّیْنِ وَلَمْ یُخْرِجُوکُمْ مِّنْ دِیَارِکُمْ اَنْ تَبَرُّوہُمْ وَتُقْسِطُوا اِِلَیْہِمْ اِِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِینَ﴾(الممتحنہ ۶۰/ ۸) ’’جن لوگو ں نے تم سے دین کی بنیاد پر جنگ کی اور تمہیں تمہارے گھر وں سے نکالا، اللہ تعالیٰ تمہیں ان کیساتھ نیکی اور انصاف (کا سلوک) کرنے سے نہیں روکتا۔ اللہ تو انصاف کرنے والوں کے ساتھ محبت رکھتا ہے۔‘‘ عام حالات میں ذمی کے ساتھ نرمی اوراحسان کرنا چاہئے۔ صرف ان کامو ں سے پرہیز کرنا چاہئے جن سے شریعت نے منع کیا