کتاب: فتاوی ابن باز - صفحہ 64
امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’صحیح‘‘ میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (أِنَّ أَصْحَبَّ صَلَاۃِ الْمَرْأَۃِ أِلَی اللّٰہِ فِی أَشَدَّ مَکاَنِ مِنْ بَیْتِھَا ظُلْمۃً) ’’اللہ تعالیٰ کو عورت کی وہ نماز سب سے زیادہ پسند ہے جسے وہ گھر میں سب سے تاریک جگہ میں ادا کرے۔‘‘[1] اس مفہوم کی اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت کیلئے مسجد کی نسبت گھر میں نماز پڑھنا زیادہ افضل ہے۔ ان حدیثوں سے مذکورہ بالا مسئلہ کی دلیل اس طرح بنتی ہے کہ جب شریعت نے اسے گھر میں نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے اور گھر میں اس کی نماز مسجد نبوی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں پڑھی ہوئی نماز سے افضل قرار دی ہے۔ پھر کسی اور کام کے لئے اسے مردوں سے میل جول رکھنا تو بدرجہ اولیٰ منع ہوگا۔ (۲) امام مسلم‘ ترمذی اور دیگر محدثین ' نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ہے جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (خَیْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ أَوَّلُھَا، وَشَرُّھَا آخِرُھَا، وَخَیْرُ صُفُوْفِ النِّسَائِ آخَرُھَا وَشَرُّھَا أَوَّلَھَا) (رواہ مسلم) ’’مردوں کی بہترین صف پہلی (سبسے آگے والی) ہے اور بدترین (نکمی) صف پچھلی (پیچھے والی) ہے اور عورتوں کی سب سے بہترین صف پچھلی ہے اور ان کی بدترین (نکمی)صف اگلی ہے۔‘‘ امام ترمذی نے یہ حدیث بیان کرکے فرمایا: ’’یہ حدیث صحیح ہے‘‘[2] وجہ دلالت یہ ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےعورتوں کویہ حکم دیا ہے کہ جب وہ مسجد میں آئیں تو مردوں سے الگ جگہ پر نماز پڑھیں۔ پھر ان کی اگلی صف کو بدترین اور پچھلی صف کو بہترین قرار دیا کیونکہ پیچھے والی عورتیں مردوں سے زیادہ دور ہوتی ہیں ،انہیں دیکھنے سےزیادہ محفوظ ہوتی ہیں، اس طرح مردوں کی حرکات دیکھ کر اور آوازیں سن کر ان کے دلوں کے ان کی طرف متوجہ ہونے کاخطرہ نہیں ہوتا۔ جب کہ ان کی اگلی صفوں کی کیفیت اس کے برعکس ہوتی ہے اورجب مسجد میں عورتیں موجود ہوں تو مردوں کی پچھلی صفوں کو بری صفیں اسی لیے قرار دیا گیا کہ ایک تووہ امام کے قرب سے اور آگے بڑھنے سے محروم ہوتے ہیں ، دوسرے اس لیے کہ پچھلی صفوں میں وہ عورتوں سے قریب ہوتےہیں ، جن کی وجہ سے مردوں کے دل ادھر مشغول ہو سکتے ہیں ، اس طرح نیت اور خشوع میں فرق آ جاتا ہے اور بسااوقات توعبادت بالکل تباہ ہو جاتی ہے، خلاصہ یہ ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ میں بھی اس قسم کی باتوں کا خطرہ تھا حالانکہ وہاں مردوں اور عورتوں میں اختلاط نہیں ہوتا، بلکہ وہ ایک دوسرے سے صرف قریب ہی ہوتےہیں تو پھر جہاں اختلاط واقع ہورہا ہو، وہاں کیا حال ہو گا؟ [1] صحیح ابن خزیمہ حدیث نمبر: ۱۶۸۰، ۱۶۹۱، ۱۶۹۲، صحیح ابن حبان حدیث نمبر ۲۲۱۷، مصنف بن ابی شیبہ ج: ۲ص: ۳۸۲، ۳۸۵، معجم طبرانی ج: ۲، ص: ۳۵ [2] صحیح مسلم حدیث نمبر: ۴۴۰، سنن ابی داؤد حدیث نمبر: ۶۷۸، جامع ترمذی حدیث نمبر: ۲۲۴، سنن مجتبی نسائی حدیث نمبر: ۸۲۱، سنن ابن ماجہ حدیث نمبر: ۱۰۰۰، صحیح ابن خزیمہ حدیث نمبر ۱۹۹۳، سنن دارمی حدیث نمبر: ۱۲۷۲۔