کتاب: فتاوی ابن باز - صفحہ 63
سے (اپنے گھریلوں کام کے سلسلے میں) گزرتی ہے، جب دوسرے افراد کی توجہ اس شخص کی طرف نہیں ہوتی تو، وہ اس (عورت) کی طرف دیکھ لیتا ہے۔ جب دوسرے متوجہ ہوتے ہیں تو اس کی طرف نظر ہٹا لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے دل کی کیفیت جانتاہے جس میں اعضائے مستورہ پر نظر ڈالنے کی خواہش موجود ہے اور یہ تمنا بھی کہ اگر موقع مل جائے تو اس سے برائی کا ارتکاب کرلے۔‘‘ اس آیت کی دلیل اس طرح ہے کہ جو شخص چوری چوری ان عورتوں کو دیکھتا ہے جن پر نظر ڈالنا اسے جائز نہیں تو، اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھ کو ’’خیانت کرنے والی‘‘قرار دیا ہے۔ پھر بے حجاب ملاقات کیسے جائز ہوسکتی ہے؟ چھٹی دلیل: اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو گھروں میں ٹک کر بیٹھنے کا حکم دیا ہے۔ ارشاد رہے: ﴿وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاہِلِیَّۃِ الْاُوْلٰی﴾ (الأحزاب ۳۳/۳۳) ’’اور اپنے گھر میں ٹھہری رہو اور سابقہ جاہلیت کی طرح اپنی زینت نہ دکھاتی پھرو۔‘‘ استدلال اس طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس وپاکیزہ ازاوج مطہراتy کو گھروں میں رہنے کا حکم دیا اور یہ حکم تمام مسلمان عورتوں کیلئے بھی ہے۔ کیونکہ اصول فقہ کا یہ مسلمہ قانون ہے کہ اس طرح کے خطاب کا حکم سب کے لئے عام ہوتا ہے الا یہ کہ کوئی دوسری دلیل یہ ظاہر کررہی ہو کہ یہ حکم خاص افراد کے لئے ہے اور مذکورہ بالا آیت میں تخصیص کی کوئی دلیل موجود نہیں۔ تو جب عورتوں کو بغیر کسی مجبوری کے گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں بلکہ انہیں گھروں میں ٹھہری رہنے کا حکم ہے تو پھر مردوں سے اختلاط کس طرح جائز ہوسکتاہے؟ خصوصاً موجودہ حالات میں جب کہ عورتوں میں سرکشی‘ بے حیائی اور اجنبی مردوں کی موجودگی میں بے پردگی عام ہوگئی ہے اور خاوندوں اور سرپرستوں کی طرف سے روک ٹوک بہت کم ہوچکی ہے۔ اس مسئلہ میں حدیث نبوی سے بہت سے دلائل پیش کئے جاسکتے ہیں۔ ہم صرف دس دلائل پر اکتفا کریں گے۔ (۱) امام احمد بن حنبل علیہ السلام نے اپنی کتاب ’’مسند‘‘ میں حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترمہ ام حمید رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کی ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ کے ساتھ (باجماعت) نماز ادا کرنا پسند کرتی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (قَدْ عَلِمْتُ أَنَّکِ تُحِبِّیْنَ الصَّلَاۃَ مَعِیَ وَصَلَاتُکِ فِی بَیْتُکِ خَیْرٌ مِنْ صَلَاتِکِ فِی حُجْرَتِکِ وَصَلَاتُکِ فُی حُجْرَتِکِ فِیی دَارِکِ وَصَلَاتُکِ فِی دَارِکِ خَیْرٌ مِنْ صَلَاتِکِ فِیْ مَسْجِدِ قَوْمِکِ وَصَلَاتُکِ فِی مَسْجِدِ قَوْمِکِ خَیخرٌ مِنْ صَلَاتِکِ فِی مَسْجِدِی) ’’مجھے معلوم ہے کہ تم میرے ساتھ نماز ادا کرنا پسند کرتا ہو۔ تمہارا کوٹھڑی کے اندر نماز پڑھنا دالان میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے اور دالان میں نماز پڑھنا صحن میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے اور تمہارا اپنے قبیلے (یامحلے) کی مسجد میں نماز پڑھنا میری مسجد (مسجد نبوی) میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔‘‘ راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے گھر کی سب سے دوروالی اور تاریک کوٹھڑی میں نماز کی جگہ بنوالی‘ اللہ کی قسم! وفات تک وہ وہیں نماز پڑھتی رہیں۔‘‘[1] [1] مسند احمد ج: ۲، ص،۳۷۱