کتاب: فتاوی ابن باز - صفحہ 62
ابوھریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (العَیْنَانِ زِنَا ھُمَا النَّظَرُ وَلأُذُنَانِ زِنَاھُمَا الاسْتِمَاعُ وَالَّسَانُ زِنَاہُ الْکَلَامُ وَالیَدُ زِنَاھَا الْبَطَشُ وَالرِّجْلُ زِنَاھَا الْخَطْوُ) ’’آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے، کانو ں کا زنا سنناہے، زبان کا زنا بات چیت کرنا ہے، ہاتھ کا زنا پکڑنا ہے اور پاؤں کا زنا چلنا ہے‘‘[1] یہ حدیث بخاری اور مسلم دونوں نے روایت کی ہے اور یہ الفاظ صحیح مسلم کے ہیں۔ اس حرکت کو اس لئے بدکاری کا نام دیا گیاہے کہ مرد نے عورت کے حسن وجمال پر نظر ڈالیں کر نفس امارہ کی ایک خواہش پوری کی ہے اور اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ اس عورت کا تصور اس کے دل میں جاگزیں ہوجائے گا، پھر وہ اس سے بدکاری کرنے کی خواہش کرے گا۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ جب شارع علیہ السلام نے عورت کو دیکھنے سے اس لئے منع کیا ہے کہ اس سے یہ خرابی پیدا ہوتی ہے، تو عورتوں سے میل جول بھی ممنوع ہونا چاہئے کیونکہ یہی وجہ وہاں بھی پائی جاتی ہے۔ اختلاط کے نتیجے میں بدنظری پیدا ہوتی ہے جن کے بعد اس کے بد ترمرحلے کی کوشش شروع ہوجاتی ہے اور اس کا وہ نتیجہ نکلتا ہے جو ہر لحاظ سے مذموم ہے۔ تیسری دلیل: گذشتہ سطور میں دلائل بیان کئے جاچکے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ عورت چھپانے کی چیز ہے۔ لہٰذا اسے اپنا تمام بدن چھپا کر رکھنا چاہئے۔ اگر بدن کا کچھ حصہ ظاہر ہوا تو اس پر نظر پڑے گی جس کی وجہ سے مرد کے دل میں اس کی طرف میلان پیدا ہوگا پھر اسے حاصل کرنے کے ذرائع اختیار کئے جائیں گے اور یہی نتائج اختلاط کے بھی ہیں، لہٰذا وہ بھی ممنوع ہے۔ چوتھی دلیل: اللہ کا ارشاد ہے: ﴿وَلَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِہِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِینَ مِنْ زِیْنَتِہِنَّ﴾ (النور ۲۴/۳۱) ’’عورتیں (چلتے ہوئے زمین پر) پاؤں نہ ماریں کہ ان کی وہ زینت معلوم ہوجائے جسے وہ چھپاتی ہیں۔‘‘ وجہ دلالت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو زمین پر پاؤں مارنے سے منع کیا ہے حالانکہ یہ کام فی نفسہ جائز ہے لیکن اس لئے منع کر دیا کہ مرد پازیب کی آواز نہ سنیں اور ان کے دلوں میں شہوانی خیالات پیدا نہ ہوں۔ اسی طرح مردوں اور عورتوں کا باہمی اختلاط بھی منع ہے کیونکہ اس سے ناگفتہ بہ خرابی تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ پانچویں دلیل: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿یَعْلَمُ خَائِنَۃَ الْاَعْیُنِ وَمَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ﴾ (الغافر۴۰/۱۹) ’’وہ خیانت کرنے والی آنکھ کو بھی جانتا ہے اور (وہ خیالات جو) سینوں میں چھپے ہوئے ہیں (انہیں بھی جانتاہے)‘‘ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور دوسرے مفسرین نے اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا ہے: ’’بسا اوقات کوئی شخص دوسرے کے گھر میں (کسی کام سے) داخل ہوتا ہے اور گھر والوں میں کوئی خوش شکل خاتون بھی ہوتی ہے، وہ ان کے پاس [1] صحیح بخاری حدیث نمبر: ۶۶۱۲، صحیح مسلم حدیث نمبر: ۲۶۵۷۔ سنن ابو داؤد حدیث نمبر ۳۱۵۲۔ مسند احمد ج: ۲، ص:۲۷۶، ۳۱۷، ۳۲۹، ۳۴، ۳۷۲، ۳۵۹، ۴۱۱، ۵۲۸، ۵۳۵