کتاب: فتاوی ابن باز - صفحہ 58
(ج) میت کے گھر والوں کو سیاہ پھول پیش کرنا۔ (د) بازوپر سیاہ پٹی باندھنا گلے میں سیاہ ٹائی باندھنا۔ (ھ) میت کے گھر جا کر اہل خانہ سے اظہار افسوس کرنا۔ جواب مندرجہ بالا امور میں سے کوئی کام بھی جائز نہیں۔ بلکہ ان کا ارتکاب حرام ہے۔ کیونکہ اس طرح کافروں کے ساتھ ان کاموں میں شراکت ہوتی ہے اور ایسے کاموں میں ان سے تعاون ہوتاہے جو اسلام سے جائز نہیں ہیں۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَسَلَّمَ اللجنۃ الدائمۃ ۔ رکن: عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان، نائب صدر: عبدالرزاق عفیفی، صدر عبدالعزیز بن باز ٭٭٭ فتویٰ (۲۲۳۴) چند متفر ق سوالات سوال براہ کرم مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات ارشاد فرمائیں۔ جزاکم اللّٰہ خیراً (۱) کیا شریعت اسلامیہ کی رو سے جائز ہے کہ مختلف مذاھب کے ماننے والے ایک چھت کے نیچے عبادت کریں؟ (۲) کیا ایک عمارت میں اس طرح کرنا جائز ہے، جب کہ ہر مذھب والوں کے لئے ایک عمارت کا الگ حصہ مخصوص ہو؟ (۳) دینی مسائل میں بحث وتمحیص اور افہام وتفہیم کے لئے مردوں اور عورتوں کے باہم میل جول کے بارے میں اسلام کیا کہتا ہے؟ (۴) کیا غیر مسلم ایسی عمارت کا بانی اور منتظم ہوسکتاہے جسے مسجد بنانا مقصود ہو؟ (۵) کیااس قسم کی عمارت کے لئے مسلمان مالی تعاون کرسکتاہے؟ (۶) کیا غیر مسلم اسلامی منصوبوں مثلاً مساجد اور مدارس کے لئے مالی تعاون کرسکتے ہی ؟ جواب اَلْحَمْدُ للّٰہ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِہِ آلِہِ وَأَصْحَابِہ وَبَعْدُ: (۱) اسلامی شریعت تمام انسانوں اور جنوں کے لئے نازل ہوئی ہے۔ الحمد للہ اس پر امت کا اجماع ہے۔ جو مسلمان یا غیر مسلم یہ سمجھتا ہے کہ یہودی بھی حق پر ہیں اور عیسائی بھی حق پر ہیں، اس کی یہ بات قرآن مجید‘ سنت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور اجماع امت کے خلاف ہے۔ اگر یہ بات کہنے والا مسلمان کہلا تا ہے تو یہ بات کہنے کی وجہ سے وہ مرتد ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَ اُوْحِیَ اِلَیَّ ہٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَکُمْ بِہٖ وَ مَنْ بَلَغَ﴾ (الانعام ۶/۱۹) ’’فرمادیجئے… اور میری طرف یہ وحی کیا گیا ہے کہ تاکہ اس کے ساتھ تمہیں بھی (اللہ کی ناراضگی اور عذاب سے) ڈراؤں اور اسے بھی جس تک یہ پہنچے۔‘‘ نیز فرمایا: ﴿وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا کَآفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّنَذِیْرًا﴾ (سباء ۳۴/۲۸) ’’ہم نے آپ کو تمام انسانوں کے لئے خوشخبری دینے ولا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے‘‘ اور فرمایا: ﴿تَبَارَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِہٖ لِیَکُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرًا﴾ (الفرقان ۲۵/۱) ’’برکت والی ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان نازل کیا تاکہ وہ (تمام) جہانوں کو ڈرانے والا بن جائے‘‘