کتاب: فتاوی ابن باز - صفحہ 54
(اَلْمُسْلِمْ أَخْو الْمُسْلِمِ لاَ یَظْلِمُہُ وَلاَ یَخْذُلُہُ وَلاَ یَکْذِبُہُ وَلاَ یَحْقِرُہُ) مسلمان مسلمان کا بھائی ہوتا ہے وہ اس پر ظلم نہیں کرتا، اسے بے یارومددگار نہیں چھوڑتا، اس سے جھوٹ نہیں بولتا اور اس کی تحقیر نہیں کرتا[1] وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَسَلَّمَ اللجنۃ الدائمۃ ۔ رکن: عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان، نائب صدر: عبدالرزاق عفیفی، صدر عبدالعزیز بن باز ٭٭٭ فتویٰ (۶۹۰۱) غیر مسلمونوں سےدوستی کی حدود سوال غیر مسلموں سے دوستی کی وہ حدود کون سی ہیں جہاں پہنچ کر ایک شخص دائرہ اسلام سے خارج اور کافر ہو جاتا ہے ؟ ہم نےسنا ہے کہ اگر کسی نے مشرک کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا لیا، یا ویسے اس کے پاس بیٹھ گیا، یا اس کی روشنی سے فائدہ اٹھالیا، یا اس کا قلم صحیح کر دیا، یا اسے دوات پکڑا دی، تو وہ بھی مشرک ہوجاتاہے ۔ ہم لوگ یہودونصاری کے ساتھ ایک ملک میں رہتےہیں ، اس لیےاکثر ان کے ساتھ کسی نہ کسی قسم کا کام پڑ جاتا ہے ۔ لہٰذا یہ فرمائیے کہ ’’دوستی‘‘ کی وہ کیا حدود ہیں جو ملت اسلامیہ سےخارج کر دیتی ہے ۔اس مسئلہ کی وضاحت کےلیے کون سی کتابوں کامطالعہ کرنا چاہیے ۔کیا ’’دوستی‘‘ کا مسئلہ لا الہ الا اللہ کی شروط میں شامل ہے ؟ جواب اَلْحَمْدُ للّٰہ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِہِ وآلِہِ وَأَصْحَابِہ وَبَعْدُ: کافروں سے جس قسم کی دوستی کفر تک پہنچاتی ہے وہ یہ ہے کہ ان سے محبت کی جائے اورمسلمانوں کےخلاف ان کی مدد کی جائے۔ انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتےہوئےان سے کسی قسم کا معاملہ کرنا یا اسلام کی دعوت دینے کے لیے ان کے ساتھ میل جول رکھنا یا اسلام کی تبلیغ کے لیے ان کی مجلسوں میں جانا یا سفر کر کے ان کے ملک میں جانا اس ممنوعہ دوستی میں شامل نہیں۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَسَلَّمَ اللجنۃ الدائمۃ ۔ رکن: عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان، نائب صدر: عبدالرزاق عفیفی، صدر عبدالعزیز بن باز ٭٭٭ فتویٰ (۲۵۴۰) اسلامی تشخص کسی حال میں مجروح نہ ہونے دیں سوال متحرم شیخ صاحب! میری بعض مسلمان بھائیوں سے بحث ہوگئی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ’’گھانا‘‘ میں بعض مسلمان یہودونصاریٰ کی چھٹیوں کے مطابق چھٹیاں کرتے ہیں اور اسلامی چھٹیو ں کی پرواہ نہیں کرتے۔ حتیٰ کہ جب یہودیوں [1] مسند احمد۲؍ ۶۸، ۳۶۰۔ صحیح بخاری حدیث نمبر ۲۴۴۲، ۶۹۵۱، صحیح مسلم حدیث نمبر ۲۵۸۰۔ سنن ابو داؤد حدیث نمبر۴۸۹۳۔ جامع ترمذی حدیث نمبر ۱۴۲۶، ۱۹۲۸۔