کتاب: فتاوی ابن باز - صفحہ 35
فتویٰ (۵۰۴۴) سنت کی تضحیک کرنے والے کا حکم سوال اس شخص کے متعلق شریعت کا کیا حکم ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی سنت کا مذاق اڑائے۔ مثلاداڑھی کو، داڑھی رکھنے کی وجہ سے مذاق کا نشانہ بنائے اور استہزاء (ٹھٹھے،مذاق) کے طور پر ’’اور داڑھی والے!‘‘ کہہ کر پکارے۔ براہ کرم اس طرح کہنے والے کے متعلق شرعی حکم بیان کردیجئے۔ جواب اَلْحَمْدُ للّٰہ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِہِ آلِہِ وَأَصْحَابِہ وَبَعْدُ: داڑھی کو ٹھٹھا کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔ جو شخص دوسرے کو ٹھٹھے کے طور پر ’’او داڑھی والے!‘‘ کہہ کر پکارتا ہے وہ کفر کا مرتکب ہوتاہے۔ اگر محض پہچان کے لئے یہ لفظ بولتا ہے تو یہ کفر نہیں ہوتا لیکن اسے اس طرح نہیں پکارنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿قُلْ اَبِاللّٰہِ وَ اٰیٰتِہٖ وَرَسُوْلِہٖ کُنْتُمْ تَسْتَہْزِئُ وْنَ٭ لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ کَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِکُمْ﴾ِ (التوبۃ۹/ ۶۵،۶۶) ’’کیا تم اللہ تعالیٰ سے، اس کی آیتوں سے اور اس کے رسول سے مذاق کرتے ہو؟ معذرت نہ کرو۔ تم ایمان لانے کے بعد پھر کافر ہوگئے ہو۔‘‘ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَسَلَّمَ اللجنۃ الدائمۃ ۔ رکن: عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان، نائب صدر: عبدالرزاق عفیفی، صدر عبدالعزیز بن باز ٭٭٭ فتویٰ (۵۷۰۳) شرعی احکام کا مذاق اڑانے والاکافرہے سوال اس شخص کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے جو نماز کا تارک ہے، رمضان کے مہینے میں روزے نہیں رکھتا۔ دین کا مذاق اڑاتا ہے اور سنت نبوی کا مذاق اڑاتا ہے مثلاً داڑھی رکھنا یا کپڑا ٹخنوں سے اونچا رکھنا، براہ کرام یہ بھی فرمائیے کہ جو شخص اس قسم کی حرکت کرتا ہے اس کے ساتھ ہمیں کیا سلوک کرنا چاہئے، خواہ وہ بھائی ہو، والد ہو یا دوست ہو؟ جواب اَلْحَمْدُ للّٰہ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِہِ آلِہِ وَأَصْحَابِہ وَبَعْدُ: نمازکو جان بوجھ کرترک کرنے والا اگر نماز کا منکر ہے تو اس کے متعلق علمائے اسلام کا اجماع ہے کہ وہ کافر ہوجاتا ہے اور اگر سستی کی وجہ سے ترک کرے تو اس کے متعلق بھی صحیح قول یہی ہے کہ وہ کافر ہے۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (وَالْعَھْدُ الَّذِی بَیْنَنَا وَبَیْنَھُمْ الصَّلَاۃُ، فَمَنْ تَرَکَھَا فَقَدْ کَفَرَ) (سنن ترمذی رقم ۲۶۲۳، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ رقم ۱۰۷۹، مسند احمد، ۵/ ۳۴۶، مستدرک الحاکم۱/۷، سنن الدارمی، السنن الکبری البیھقی ۳/۳۶۶، مصنف ابن شیبۃ۱۱/۳۴ وصحیح ابن جبان رقم ۱۴۵۴) ’’ہمارے اور ان(یعنی مسلمانو ں اور کافروں) کے درمیان عہد (کی ظاہری علامت) نماز ہی ہے۔ جس نے اسے