کتاب: فتاوی ابن باز - صفحہ 330
اس کو اتنا ثواب ملے گا گویا اس نے اسماعیل علیہ السلام کی آل( اولاد) میں سے ہزار افراد آزاد کئے ۔ ‘‘ جواب:… اَلْحَمْدُ للّٰہ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِہِ وآلِہِ وَأَصْحَابِہ وَبَعْدُ: شریعت نے اذکار کی تعداد مقرر کی ہے، ان میں اسی عدد پرعمل کرنا چاہے اورجن اذکار میں کوئی خاص عدد مقرر نہیں کیا گیا وہ اذکار تعداد مقرر کئے بغیر کرنا چہیں اس طرح آپ کے بیان کردہ مسئلہ میں اور احادیث میں مطابقت پیداہو جائے گی۔ پہلی حدیث میں صحیح مسلم کی روایت کے مطابق درست الفاظ یوں ہیں : ((مَنْ صَلَّى عَلَيَّ وَاحِدَةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرًا)) ’’ جس نےمجھ پر ایک بار درود پڑھا اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا۔ ‘‘ [1] یہ فضیلت جمعہ او ردوسرے دنوں میں برابر ہے ۔ دوسری حدیث کےصحیح الفاظ اس طرح ہیں : ((مَنْ قَالَ لَا إِلَہَ إِلَّا اللّٰه وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ فِی یَوْمٍ مِائَۃَ مَرَّۃٍ کَانَتْ لَہُ عَدْلَ عَشْرِ رِقَابٍ وَکُتِبَتْ لَہُ مِائَۃُ حَسَنَۃٍ وَمُحِیَتْ عَنْہُ مِائَۃُ سَیِّئَۃٍ وَکَانَتْ لَہُ حِرْزًا مِنَ الشَّیْطَانِ یَوْمَہُ ذَلِکَ حَتَّی یُمْسِیَ وَلَمْ یَأْتِ أَحَدٌ بِأَفْضَلَ مِمَّا جَائَ بِہِ إِلَّا أَحَدٌ عَمِلَ أَکْثَرَ مِنْ ذَلِکَ)) ’’ جس نے دن میں سو بار یہ کہا: لاإلہ إلا اللّٰه وحدہ لا شریک لہ ، لہ الملک ولہ الحمد وہو علی کل شیء قدیر اسے دس افراد (غلام یا لونڈیاں)آزاد کرنے کا ثواب ملے گا اور س کے سو نیکیاں لکھی جائیں گی اور اس کے سو گناہ معاف ہوجائیں گے اور وہ اس دن شام تک شیطان سے محفوظ رہے گا اور اس کیس کام عمل افضل نہیں ہوگا ، سوائے اس شخص کے جس نے اس سے زیادہ کیا ہو۔‘‘[2] یہ حدیث بخاری اور مسلم دونوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔ صحیح مسلم میں یہ الفاظ بھی ہیں: ((مَنْ قَالَ سُبْحَانَ اللّٰه وَبِحَمْدِہِ فِی یَوْمٍ مِائَۃَ مَرَّۃٍ حُطَّتْ خَطَایَاہُ وَإِنْ کَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ )) ’’ جو شخص دن میں سو بار سبحان وبحمدہ کہے گا اس کی غلطیاں معاف ہو جائیں گی اگر چہ سمندر کی جھاگ کی طرح ہوں‘‘ صحیحین میں حضرت ابو ایوب انصاری سے ر وایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ قَالَ لاَ إِلٰہَ إِلَّا وَحْدَہُ لَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلٰی کُلَّ شَیْئٍ قَدِیرٌ فِی یَوْمٍ مِائَۃَ مَرَّاتٍ کَانَ کَمَنْ أَعْتَقَ أَرَبَعَۃَ أَنْفُسٍ مِنْ وُلْدِ إِسْمَاعَیلَ)) ’’ جو شخص دس دفعہ یہ کہے: لا الہ اللّٰه وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وہو علی کل شی قدیرo وہ ایسے ہے گویا کہ اس نے اولاد اسماعیل علیہ السلام میں سے چار افراد کو آزاد کیا۔‘‘ وَبِاللّٰہِ التَّوفَیقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہِ وَصَحھبِہِ وَسَلَّمَ اللجنۃ الدائمۃ ، رکن : عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان ، نائب صدر : عبدالرزاق عفیفی، صدر : عبدالعزیز بن باز۔ ٭٭٭ [1] صحیح مسلم ج: ۲، ص:۱۷ [2] صحیح بخاری ۷؍ ۱۶۶۔ صحیح مسلم ۸؍ ۶۹۔