کتاب: فتاوی ابن باز - صفحہ 325
جاؤ اور خطبہ سنو‘‘ تو آپ نے ایک غلط کام کیا اور ایک نامناسب کے مرتکب ہوئے ا س موقع پر یوں کرنا چاہے کہ خطیب سے گزارش کی جائے کہ غلطی کرنیو الے کو نصیحت کریں تاکہ وہ غلط کام چھوڑ کر اچھے کام کی طرف متوجہ ہو جائے ۔ اس ممانعت میں یہ حکمت ہے کہ سامعین خطبہ کے دوران یکے بعد دیگرے باتیں کرنا شروع نہ کردیں۔ اس طرح شور ہوجائے گا۔ غلطی کرنے والے کو اشارہ کے ذریعے ا س کی غلطی سے منع کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ وَبِاللّٰہِ التَّوفَیقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہِ وَصَحھبِہِ وَسَلَّمَ اللجنۃ الدائمۃ ، رکن : عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان ، نائب صدر : عبدالرزاق عفیفی، صدر : عبدالعزیز بن باز۔ ٭٭٭ فتویٰ(۴۶۰۰) چنداہم مسائل شرعیہ سوال:… مندرجہ ذیل مسائل میں شریعت اسلامی کا کیا حکم ہے: ۱۔ نماز باجماعت کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بلند آواز سے دورد پڑھنا؟ ۲۔ نماز کے بعد باجماعت دعا کرنا ؟ ۳۔ کچھ لوگوں کا مل کر قرآن پڑھنا گانا؟ ۴۔ نابینا معمر امام کے پیچھے نماز پڑھنا ،ج کہ وہ کبھی کبھی غلطی بھی کر جاتا ہے؟ جواب:… اَلْحَمْدُ للّٰہ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِہِ وآلِہِ وَأَصْحَابِہ وَبَعْدُ: ۱۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر دورد پڑھنے کا بہت عظیم ثواب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اس حکم دیا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ترغیب دی ہے او ر بتایا ہے کہ اس کا بہت زیادہ ثواب ہے ۔ ثواب ہے چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ((مَنْ صَلَّی عَلَیَّ مَرَّۃً صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ بِھَا عَشْرًا)) جو شخص مجھ پر ایک بار دورد پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتے ہیں ۔‘‘ [1] نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نام ذکر کرنے پر نماز میں تشہد کے دوران ، خطبہ اور خطبہ ، نکاح وغیرہ میں دورد پڑھنا شرعی طور پر ضروری ہے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یا صحابہ کرام صلی اللہ علیہ وسلم سے یا ائمہ سلف امام ابو حنفیہ ، اما لیث بن سعد ، امام شافعی امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ اوردیگر آئمہ رحمہم اللہ سے یہ ثابت نہیں ہے کہ وہ نماز باجماعت کے بعد بلند آواز سے دورد پڑھتی ہوں اور بھلائی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، خلفائے راشدین اور دیگر صحابہ کرام صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ پر عمل کرنے میں ہی ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ((مَنْ أَحّدَثَ فِی أَمْرِنَا ہٰذَا مَالَیْسَ مِنْہُ فَہُوَ رَدٌّ)) ’’ جس نے ہمارے دین میں وہ چیز ایجاد کی جو اس میں سے نہیں تو وہ ناقابل قبول ہے۔ ‘‘ ۲۔ دعا عبادت ہے ، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم یا خلفائے راشدین یا دیگر صحابہ کرام صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ثابت نہیں کہ وہ (ہر ) نماز بعد [1] مسند احمد ج: ۲، ص: ۲۶۵،۔ صحیح مسلم حدیث نمبر: ۳۸۴، ۴۰۸، ابوداؤد حدیث نمبر ۱۵۳۰، نسائی ج: ۳، ص: ۵۰ ترمذی حدیث نمبر: ۴۸۵، دارمی حدیث نمبر: ۲۷۷۵، ابن خزیمہ ج: ۱، ص: ۲۱۹۔