کتاب: فتاوی ابن باز - صفحہ 311
﴿وَ اللّٰہُ غَالِبٌ عَلٰٓی اَمْرِہٖ وَ لٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ﴾ پھر جوہرۃ الکمال تین بار پڑھ کر آخر میں ایک دفعہ کہتے ہیں : ((سُبْحَانَ رَبَّکَ رَبَّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَی الْمُرْسَلِینَ وَالْحَمْدُاللّٰہِ رَبْ الْعَالَمِینَ)) اور فقیروں کو کچھ روٹی بھی خیرات کے طور پر دیتے ہیں۔ اس عمل کی خاصیت یہ ہے کہ صفر کے آخری بدھ کو جو مصیبتں اور بلائیں نازل ہوتی ہیں ان سے حفاظت ہوتی ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ہر سال صفر کے آخری بدھ کو تین لاکھ بیس ہزار بلائیں نازل ہوتی ہیں اور یہ سال کا سب سخت دن ہوتا ہے ۔لیکن جو شخص اس دن مذکورہ بالاطریقے سے مذکورہ بالا نماز پڑھ لے وہ ان تمام بلاؤں اور مصیبتوں سے محفوظ ہو جاتا ہے اور جوکوئی اس طرح یہ نماز ادا نہ کر سکے۔مثلا بچے وغیرہ تو اسے یہ سورتیں اور آیات لکھ کر گھول کر پلادی جائیں۔۔ کیا یہ عمل جائز ہے یا نہیں؟ جواب اَلْحَمْدُ للّٰہ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِہِ وآلِہِ وَأَصْحَابِہ وَبَعْدُ: سوال بیان کی گئی نماز کی کوئی دلیل قرآن مجید میں ملتی ہے نہ حدیث شریف میں۔ اس کا ثبوت صحابہ تابعین میں سے کسی سے ملتا ہے اور نہ بعد کے کسی نیک بزرگ سے ، لہٰذا یہ غلط کام اور بدعت ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَیْسْ عَلَیْہِ أَمْرُنَا فَھُوَرَدٌّ)) ’’ جس نے کوئی ایسا عمل کی اجو ہمارے دین کے مطابق نہیں وہ مردود ہے۔‘‘ نیز فرمایا: ((مَنْ أَحّدَثَ فِی أَمْرِنَا ہٰذَا مَالَیْسَ مِنْہُ فَہُوَ رَدٌّ)) ’’ جس نے ہمارے دین میں کوئی نیا کام ایجاد کی اجو (دراصل) دین میں سے نہیں تو وہ ناقابل قبول ہے۔ ‘‘ جس نے یہ نماز اور اس کی فرضی فضائل کی نسبت جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا کسی صحابی کی طرف کی اس نے بہت بڑا جھوٹ بولا ، اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کذابوں کی وہ سزا ملے گی جس کا وہ مستحق ہے۔ وَبِاللّٰہِ التَّوفَیقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہِ وَصَحھبِہِ وَسَلَّمَ اللجنۃ الدائمۃ ، رکن : عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان ، نائب صدر : عبدالرزاق عفیفی، صدر : عبدالعزیز بن باز۔ دعاء کا یہ طریقہ بدعت ہے سوال کیا کتاب ’’ الدعاء المستنجاب‘‘ تصنیف احمد عبدالجواد قابل اعتماد کتاب ہے؟ اس میں لکھا ہے کہ رات یا دن میں کسی وقت بارہ رکعت نماز ادا کی جائے۔ ہر دو رکعت کے بعد تشہد پڑھا جائے۔ جب آخری تشہد پڑھے تو اللہ کی حمد وثنا کرے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھے اور سجدے میں سات بار فاتحہ اور سات بار آیت الکرسی پڑھے اور دس بار یہ دعا پڑھے: ((لاَ إِلَہَ إِلاَّ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ…))