کتاب: فتاوی ابن باز - صفحہ 310
ہے؟ اس کے متعلق آپ کی رائے ہے؟ اس کے متعلق آپ کی کیا رائے ہی؟ ہم یہ سنت ہماز کس طرح ادا کریں؟آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ ۲۔ جمعہ کے دن نماز ظہر سے پہلے لاؤڈ سپیکر میں قرآن کی تلاوت کا کیا حکم ہے’؟ اگر کوی کہے کہ یہ حدیث میں مذکورنہیں تو کہتے ہیں؟ تم قرآن کی تلاوت روکنا چاہتے ہو؟اور فجر کی اذان سے کچھ پہلے لاؤڈ سپیکر میں دعائیں مانگنے کے بارے میں اپ کا کیا خیال ہے؟ اگر کہا جائے کہ اس عمل کوئی دلیل نہیں تو کہا جاتا ہے یہ اچھا کام ہے اس طرح ہم لوگوں کو فجر کی نماز کے لیے جگاتے ہیں۔ جواب اَلْحَمْدُ للّٰہ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِہِ وآلِہِ وَأَصْحَابِہ وَبَعْدُ: لوگوں کا صَلَاۃُ الْقِیَامِ اَثَابَکُمُ اللّٰہُ کہنا اور امام کا پھر مقتدیوں کا بلند آواز سے’’ اَلَّہُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ کہنا، دو رکعتوں کے بعد آواز سے سورۂ الاخلاص او رمعوذتین پڑھنا سب خود ساختہ بدعتیں ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ أَحّدَثَ فِی أَمْرِنَا ہٰذَا مَالَیْسَ مِنْہُ فَہُوَ رَدٌّ)) ’’ جس نے ہمارے اس دین میں نئی بات نکالی جو اس میں سے نہیں ہے تو وہ مردود ہے۔‘‘ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ جمعہ میں فرمایا کرتے تھے۔ ((أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ خَیْرَ الْحَدِیثِ کِتَابُ اللّٰہِ وَخَیْرُ الْہُدٰی ہُدٰی مُحَمَّدٍ وَشَرُّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُہَا وَکُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ )) ’’ اَمَّا بَعّدُ: سب سے اچھی بات اللہ کی کتاب ہے اورسے اچھا طریقہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے اور سب سے برے کاموہ ہیں جو نئے ایجاد کیے جائیں اور ہر بدعت گمراہی ہے۔‘‘ یہ حدیث امام مسلم نے اپنی کتاب’’صحیح‘‘ میں روایت کی ہے۰ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بدعتیں سب کی سب گمراہی ہیں جیسے کہ جناب مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور اسلام میں کوئی ’’ بدعت حسنہ‘‘ نہیں ہے۔‘‘ ۲۔ ہماری معلومات کے مطابق اس بات کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایسے ہوا ہو۔ نہ ہمیں کسی صحابی کے ایسے عمل کا پتہ ہے۔ اسی طرح فجر کی اذان سے پہلے لاؤڈ سپیکر پر دعائیں کرنا بھی ثابت نہیں۔ اس لیے یہ بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ: ((مَنْ أَحّدَثَ فِی أَمْرِنَا ہٰذَا مَالَیْسَ مِنْہُ فَہُوَ رَدٌّ)) ’’ جس نے ہمارے اس دین میں نئی بات نکالی (در حقیقت) جو اس میں سے نہیں ہے تو وہ مردود ہے۔‘‘ وَبِاللّٰہِ التَّوفَیقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہِ وَصَحھبِہِ وَسَلَّمَ اللجنۃ الدائمۃ ، رکن : عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان ، نائب صدر : عبدالرزاق عفیفی، صدر : عبدالعزیز بن باز۔ ٭٭٭ یہ طریقہ خلاف سنت ہے سوال ہمارے ملک میں بعض علماء کہتے ہیں کہ ماہ صفر کے آخری بدھ کو ایک نماز پڑھی جاتی ہے جو ضحی کے وقت چار رکعت ایک سلام سے پڑھی جاتی ہے۔ ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ ، سورہ کوثر ، سترہ (۱۷) بار، سورۂ اخلاص پچاس (۵۰) بار اور معوذتین ایک ایک بار پڑھتے ہیں ۔ سلام پھیر کرتین سو ساٹھ دفعہ یہ آیت پڑھتے ہیں: