کتاب: فتاوی ابن باز - صفحہ 31
مسلمان بھائی ہے، اسے مسلمانوں والے حقوق حاصل ہیں۔ اس مسئلہ میں اختلاف فروعی اجتہادی اختلاف ہے۔ اس قسم کا اختلاف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ائمہ کے زمانے بھی موجود رہا ہے۔ لیکن انہوں نے ایک دوسرے کو کافر نہیں کہا، اور ایک دوسرے سے تعلقات منقطے نہیں کئے۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَسَلَّمَ اللجنۃ الدائمۃ ۔ رکن: عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان، نائب صدر: عبدالرزاق عفیفی، صدر عبدالعزیز بن باز ٭٭٭ فتویٰ (۳۷۸۶) ذمیوں سے سلوک سوال ہمارے ملک میں مقیم اہل کتاب کا کیا حکم ہے؟ واضح رہے کہ یہ لوگ جزیہ نہیں دیتے بلکہ مسلمانو ں سے دشمنی رکھتے ہیں اور انہیں اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کا جو بھی موقع ملتا ہے، وہ خفیہ یا اعلانیہ اس میں شریک ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے ساتھ معاملات کس طرح رکھے جائیں؟ اور ایک مسلمان ان سے لاتعلقی اور عدم موالات کا اظہار کس طرح کرے؟ جواب الْحَمْدُ للّٰہ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِہِ آلِہِ وَأَصْحَابِہ وَبَعْدُ: جو غیر مسلم شخص مسلمانو ں کے ساتھ صلح صفائی سے رہے اور انہیں تنگ کرنے کی کوشش نہ کرے، ہم بھی اس سے اچھا سلوک کریں گے اور اسلام کی طرف سے اس کے متعلق ہم پر جو ذمہ داری عائد ہوتی ہے وہ پوری کریں گے یعنی اس سے بھلائی‘ نصیحت اور حق کی طرف رہنمائی۔ ہم اسے دلائل کے ساتھ اسلام کی دعوت پیش کریں گے، شاید وہ اسلام قبول کرلے۔ اگر وہ قبول کرلے تو بہتر ورنہ ہم ان سے وہ فرائض ادے کرنے کا مطالبہ کریں گے جو قرآن وحدیث کی روشنی میں مسلمان ملک کے اندر رہ کر ایک غیر مسلم باشندے پر عائد ہوتے ہیں۔ اگر وہ لوگ اپنے فرائض ادا کرنے سے انکار کریں تو ہم ان سے جنگ کریں گے حتیٰ کہ اسلام غالب اور کفر مغلوب ہوجائے۔ اس کے برعکس جو غیر مسلم سرکشی کا رویہ اختیار کرے، مسلمانوں کو تنگ کرے اور ان کے خلاف سازشیں کرے تو مسلمانوں کا فرض ہے کہ اسے اسلام کی دعوت دیں۔اگر وہ انکار کرے تو مسلمانوں کوپہنچے والی تکلیف کے ازالہ اور دین کی مدد کے لئے اس سے قتل کریں۔ ارشاد ربانی ہے: ﴿َا تَجِدُ قَوْمًا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَادَّ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَلَوْ کَانُوْا آبَائَ ہُمْ اَوْ اَبْنَآئَ ہُمْ اَوْ اِِخْوَانَہُمْ اَوْ عَشِیرَتَہُمْ اُوْلٰٓئِکَ کَتَبَ فِیْ قُلُوْبِہِمُ الْاِِیْمَانَ وَاَیَّدَہُمْ بِرُوحٍ مِّنْہُ ﴾ (المجادلۃ۸۵/ ۲۲) ’’آپ کبھی یہ نہ پائیں گے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ اور قیامت پر ایمان رکھتے ہیں، وہ ان لوگوں سے محبت کرتے ہوں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کی ہے خواہ وہ ان کے باپ ہوں یا ان کے بیٹے، ان کے بھائی ہوں یا ان کے قریب دار یہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان ثبت کردیا ہے اور اپنی طرف سے ایک روح کے ساتھ ان کی مدد فرمائی ہے‘‘ نیز فرمان الٰہی ہے: ﴿لَایَنْہٰکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوکُمْ فِی الدِّیْنِ وَلَمْ یُخْرِجُوکُمْ مِّنْ دِیَارِکُمْ اَنْ تَبَرُّوہُمْ وَتُقْسِطُوا اِِلَیْہِمْ اِِنَّ اللّٰہَ