کتاب: فتاوی ابن باز - صفحہ 299
مفاسد میں غور کرکے بڑی خرابی کو دور کرن کے لیے چھوٹی خرابی کا ارتکاب کرے۔ اسی طرح جب مصلحت اور خرابی باہم مقابل ہوں اور مصلحت راجح ہو تو اسے اختیار کرے اور اگر مفاسد کا امکان زیادہ ہو تو اسے ترک کر دے۔ لہٰذا اسے چاہے کہ سنت بیان کر اور اس کی تائید کر اور بدعت بھی بیان کرے اور س کی تردید کرے لیکن یہ سب کام ، حکمت اچھے طریقے سے نصیحت اورشائشگی سے بحث مباحثہ کے ذریعے ہونے چاہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے: ﴿اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَ الْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَ جَادِلْہُمْ بِالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ ﴾ ’’ اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دیجئے حکمت ودانائی سے اورعمدہ نصیحت سے اور ان سے اس انداز سے بحث کیجئے جو بہترین ہو۔‘‘ اس طریقے پر عمل کرنے والے کو فتنہ برپا کرنے والا نہیں کہا جائے گا۔ وَبِاللّٰہِ التَّوفَیقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہِ وَصَحھبِہِ وَسَلَّمَ اللجنۃ الدائمۃ ، رکن : عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان ، نائب صدر : عبدالرزاق عفیفی، صدر : عبدالعزیز بن باز۔ ٭٭٭