کتاب: فتاوی ابن باز - صفحہ 287
’’ پس میری سنت اور میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو اختیار کرو۔ اسے خوب مضبوطی سے پکڑ لو اور نئے نئے کاموں سے بچو، کیونکہ ہر نیا کام بدعت اور ہر بدعت گمرانہی ہے اور ہر گمراہی آگ میں (لے جانے والی ) ہے۔‘‘ گزارش ہے کہ یہ مسئلہ حل کردیں ج، جو میری سمجھ میں نہیں آرہا اور آپ کے سوا کوئی میرا یہ مسئلہ حل نہیں کر ریا۔ جواب اَلْحَمْدُ للّٰہ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِہِ وآلِہِ وَأَصْحَابِہ وَبَعْدُ: ۱۔ اللہ تعالیٰ نے شریعت مکمل کر دی ہے ، لہٰذا اسے کسی انسان کی طرف سے مکمل کئے جانے کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿ اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا ﴾ ’’ آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل دین مکمل دیردیا ، اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کرلیا۔‘‘ (المائدہ: ۵/۳) ۲۔ عبادات میں اصل توقیف ہے۔ جو شخص (کسی کام کے متعلق ) کہے کہ یہ عبادت شرعی ہے اس کا فرض ہے کہ ایسی شرعی دلیل پیش کرے جس سے ا س کام کی مشروعیت ثابت ہو، ورنہ وہ عبادت ناقابل قبول ہے صحیح حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ثا بت ہے: ((مَنْ أَحْد!ثَ فِی أَمْرِنَا ہٰذَا مَالَیْسَ مِنْہُ فَہُوَ رَدٌّ)) ’’ جس نے ہمارے اس دین میں وہ چیز ایجاد کی جو اس میں سے نہیں تو وہ ناقابل قبول ہے۔‘‘ ایک روایت میں ہے: ((مَنْ عَمِلَ عَمَلاً لَیْسَ أَمْرُنَامِنْہُ فَہُوَ رَدٌّ)) ’’ جس نے کوئی ایسا عمل کیا جو ہمارے حکم کے مطابق نہیں تو وہ مردود ہے۔‘‘ ۳۔ بدعت کا لغوی معنی ہے: ’’ ایک چیز کو شروع کرنا، یا بنایا جن کہ اس کی پہلے کوئی مثال موجود نہ ہو۔ ‘‘ اصطلاحی معنی یہ ہے کہ : ’’کوئی قولی ، عملی یا اعتقادی بدعت ایجاد کرنا جو اللہ تعالیٰ نے مشروع نہیں فرمائی۔ ‘‘ بدعتیں سب گمراہی ہیں جس طرح کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے۔ ۴۔ دین میں بدعت کی پانچ قسمیں بنانے کی ، ہماری معلومات کے مطابق، شریعت میں کوئی بنیاد نہیں۔ ہم آپ کو نصحیت کرتے ہیں کہ امام شاطبی رحمہ اللہ کی کتا ب ’’ الاعتصام‘‘ کی طرف رجوع کریں ، انہوں نے بدعت کے متعلق جو تفصیلی مباحث بیان فرمئاے ہیں وہ کسی دوسری کتاب میں کم ہی یکجالیں گے۔ اسی طرح یہ کتابیں بھی مطالعہ کے لائق ہیں ’’ کتاب السنن والمبتدعات‘‘ ’’ کتاب الابداع فی مضار الابتداع‘‘ ’’ تبنیہ الغافلین‘‘ ازنحاس‘‘ ’’ زاد المعاد‘‘ از علامہ ابن قیم رحمہ اللہ، ’’ اتتضاء الصراط المستقیم ‘‘ از شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ ۔ ۵۔ لفظ ’ کل‘‘ اصطلاحی معنی کے لحاظ سے ’’ حصر‘‘کے الفاظ میں شامل نہیں وہ ’ عموم‘ کے الفاظ میں سے ہے ۔جیساکہ اصول فقہ کی کتابوں سے واضح ہے۔ وَبِاللّٰہِ التَّوفَیقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہِ وَصَحبِہِ وَسَلَّمَ اللجنۃ الدائمۃ ، رکن : عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان ، نائب صدر : عبدالرزاق عفیفی، صدر : عبدالعزیز بن باز۔