کتاب: فتاوی ابن باز - صفحہ 286
فتویٰ (۲۴۶۷) بدعت کا شرعی حکم سوال میں آپ کی خدمت میں مندرجہ بالا حدیث پیش کر رہا ہوں جس میں مجھے اشکال پیش آیا اور اس کے بارے میں طلبہ میں اختلاف پیدا ہوگیا ہے۔ میں نے حدیث آپ کے سامنے اس لئے پیش کی ہے کہ آپ اس کی تحریری طور پر وضاحت فرمادیں تاکہ میں بھی اس کا مطالعہ کروں اور مجھ جیسے دوسرے طلبہ بھی پڑھیں اور ہمارے دلوں میں شک دور ہوجائے۔ حدیث یہ ہے۔: حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب خطبہ ارشاد فرماتے تھے تو آپ کی آنکھیں سرخ ہوجاتیں، آواز بلند ہوجاتی‘ شدید غضب کا اظہار ہوتا، گویا آپ کسی لشکر (کے حملے) سے ڈرا رہے ہوں ار کہہ رہے ہوں کہ وہ صبح یا شام (کے وقت) تم پر حملہ کرنے والا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ’’مجھے اور قیامت کو ان دوانگلیوں کی طرح (قریب قریب) بھیجا گیا ہے (یہ کہتے ہوئے) آپ شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کو ملالیتے اور فرماتے: (اَمَّا بَعْدُ: فَأِنَّ خَیْرَ الْحَدِیْثِ کِتَابُ ا للّٰہِ وَخَیْرَ الْھَدْيِ ھَدْیُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَشَرَّ الْاُمُوْرِ مْحْدَثَاتُھَا وَکُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلاَلَۃٌ) ’’امابعد! بہترین بات‘ اللہ کی کتاب اور بہترین طریقہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے اور بدترین کا م وہ ہیں جو نئے ایجاد کئے جائیں اور ہر بدعت گمراہی ہے۔‘‘ ’’میرا مومن سے تعلق خود اس کی ذات سے بھی بڑھ کر ہے، جوکوئی مال چھوڑے (اور فوت ہوجائے) تو وہ اس کے گھر والوں کا ہے اور جو شخص قرض یا چھوٹے بچے چھوڑ جائے تو (ان کی نگہداشت اور قرض کی ادائیگی) میرے ذمہ ہے۔‘‘ اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا۔ اس حدیث میں الفاظ ’’ہر بدعت گمراہی ہے۔‘‘ میں بدعت کے خلاف ہوں اور سنت کی تلوار کے ساتھ اس سے جنگ کرتا ہوں۔ میں نے آپ کی خدمت میں پیش کی ہے تاکہ آپ مجھے اس کی تشریح سمجھادیں او ر مجھے بدعت کا لغوی اور اصطلاحی مطلب سمجھا دیں تاکہ میں کسی ایسی چیز کی تردید نہ کروں جو بدعت نہیں ہے۔ بعض فقہاء نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بدعت پر بھی پانچوں احکام لگتے ہیں، کیا ان کے پاس اس تقسیم کی کوئی دلیل ہے؟ وہ کہتے ہیں کوئی بدعت واجب ہوتی ہے، کوئی مباح‘ کوئی مکروہ،کوئی مبدوب اور کوئی حرام۔ گزارش ہے کہ اس کی اچھی طرح وضاحت کردیں کیونکہ طلبہ میں اس بات میں اختلاف پیدا ہوگیا ہے کہ ہر بدعت گمراہی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’کل‘‘ کا لفظ حصر کا تقاضا کرتاہے۔ الا یہ کہ اس کے بعد استثناء آجائے۔ علاوہ ازیں ابو داؤد اور ترمذی رحمہا اللہ نے ایک طویل حدیث روایت کی ہے، جس میں یہ الفاظ بھی ہیں: ((فَعَلَیْکُمْ وَسُنَّۃِ الْخُلَفَائِ الرّاشِدِینَ الْمَھْدِیَّینَ عَضُّوا عَلَیْھَا بِالنَّوَاجِذِ وَإِیَّاکُمْ وَمُحْدَثَاتِ اْالأُمُورِ فَإِنَّ کُلَّ مُحْدَثَۃٍ بِدْعَۃٍ ضَلاَلَۃٍ فیِ النَّارِ)