کتاب: فتاوی ابن باز - صفحہ 281
یہ لوگ اپنی رازداری کو قائم رکھنے کے انتہائی حریص ہیں، مذاہب کو گرانے، ان کے متعلق شر انگیز منصوبے بنانے اور سیاسی انقلاب برپا کرنے کے لئے جو پلاننگ کرتے ہیں، اسے پوشیدہ رکھنے کی انتہائی کوشش کرتے ہیں۔ اس امر کا پتہ صہیون کے بزرگوں کے پروٹوکول میں موجود اس عبارت سے ملتا ہے: ’’ہم ان اکائیوں کو ایک ہی قیادت کے تحت منظم کریں گے جو صرف ہمیں معلوم ہوں گی۔ یہ قیادت ہمارے علماء سے تشکیل پائے گی اور ان اکائیوں کے خصوصی نمائندے ہوں گے، تاکہ وہ مقام پوشیدہ رہے جہاں ہماری اصل قیادت قیام پذیر ہو۔ صرف اسی قیادت کو یہ متیعن کرنے کا حق حاصل ہوگا کہ (ا سکی طرف سے) کون کلام کرے اور روزمرہ کے نظام کو چلانا انہی کاحق ہوگا۔ ان اکائیوں میں ہم اشتراکیوں اور معاشرہ کے انقلابی طبقات کے لئے جال اور کانٹے لگائیں گے۔ اکثر خفیہ سیاسی منصوبے ہمیں معلوم ہیں، جب وہ تشکیل پائیں گے تو ہم ان کی تنفید کی رہنمائی کریں گے۔ اکثر خفیہ سیاسی منصوبے ہمیں معلوم ہیں، جب وہ تشکیل پائیں گے تو ہم ان کی تنقید کی رہنمائی کریں گے۔ بین الاقوامی خفیہ پولیس کے نمائندے ان اکائیوں میں ارکان ہوں گے۔ دنیا میں جب سازشیں ہوتی ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہمارا کوئی نہ کوئی مخلص ترین نمائندہ اس سازش کو چلا رہا ہے اور یہ بالکل فطری بات ہے کہ ہم ہی ایک ایسی قوم ہیں جو ماسونی پروگراموں کو گائیڈ کرتی ہے اور ہم ہی واحد قوم ہیں جو ان کا گائیڈ کرنا جانتے ہیں ہر کام کا آخری مقصود ہمیں معلوم ہوتا ہے۔ جب کہ گویم (غیر یہودی) ان اکثر چیزوں سے ناواقف ہیں جو ماسونیت کا خاصہ ہیں۔ ان کو اس کام کے فوری نتائج بھی نظر نہیں آتے جو وہ کررہے ہوتے ہیں۔‘‘ ان کے علاوہ اور بہت سے ثبوت ہیں جن سے یہودیت اور ماسونیت کا گہرا تعلق ظاہر ہوتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ انقلابی سازشوں اور تخریبی تحریکوں کے برپا کرنے میں دونوں گروہوں میں زیادہ سے زیادہ تعاون پایا جاتا ہے۔ ماسونیت ظاہری طور پر آزادی عقیدہ،ایک دوسرے کی رائے کو برداشت کرنے اور معاشرہ کی عمومی اصلاح کی دعوت دیتی ہے لیکن اصل میں یہ انداز سے بے حیائی‘ آوارگی اور معاشروں میں فساد اور توڑ پھوڑ کی دعوت ہے۔ یہ ہر قوم کی اندرونی وحدت کو ختم کرتی‘ شریعت اور اخلاق کی عظیم عمارت کو توڑتی اور منہدم کرتی ہے اور لوگوں میں فساد اور تخریب کی داعی ہے۔ لہٰذ جو مسلمان ماسونی تنظیم کا رکن ہے اور وہ اس کی اصل حقیقت جانتا ہے، اس کے پوشیدہ رازوں سے واقف ہے، ان کی خاص رسمیں ادا کرتا ہے اور ان کے شعائر کو اہمیت دیتا ہے تو ایسا شخص کافر ہے۔ اس سے توبہ کرنی چاہئے۔ اگر تونہ کرلے تو ٹھیک ہے، ورنہ اسے قتل کردیا جائے گا اور اگر وہ اسی حالت میں مرگیا تو اس کا انجام کافروں والا ہوگا۔ لیکن جو شخص ماسونیت کی طرف منسوب ہے اور اس کی جماعت کا رکن ہے۔ لیکن اسے اس کی اصل حقیقت کا علم نہیں اور اسے یہ بھی معلوم نہیں کہ یہ اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے لئے قائم کی گئی ہے اور یہ ہ راس شخص کے خلاف برے منصبوبے بناتی ہے جو اقوام کو جمع کرنے اور ان کی اصلاح کرنے کیکوشش کرے، وہ شخص ان کی عومی دعوت میں شریک ہے اور ان خوشنما الفاظ سے متاثر ہے جو ظاہری صورت میں اسلام کے منافی نہیں، تو ایسا شخص کافر نہیں ہوگا، بلکہ اسے معذور سمجھا جائے گا کیونکہ ان کی اصل حقیقت اس سے پوشیدہ رہی اور وہ ان کے اصل عقائد میں ان کے ساتھ شریک ہے نہ ان کے مقاصد میں اور نہ ہی ان کی قابل نفرت مقاصد کے حصول کے لئے راہ ہموار کرنے میں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ِأنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ، وَِأنَّمَا لِکُلِّ امْرِیئٍ مَّا نَوَی…) ’’اعمال کا دارومدار نیتو ں پر ہے اور ہر شخص کو وہی کچھ ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔‘‘