کتاب: فتاوی ابن باز - صفحہ 280
میسن تنظیم نفس انسانی کو اپنا معبود بناتی ہے۔‘‘ وہ کہتے ہیں ’’ہم اہل دین ور ان کی عبادت گاہوں پر صرف فتح ہی نہیں پانا چاہتے بلکہ ہمارا بنیادی مقصدانہیں نیست ونابود کرنا ہے۔‘‘ کاروائی میسنز عالمی کانفرنس ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۰۲۔ وہ کہتے ہیں: ’’ماسونیت مذاہب کی جگہ لے لے گی اور ا س کے لاج عبادت گاہوں کا مقام حاصل کر لیں گے…‘‘ اس کے علاوہ ور بہت سی باتیں ہیں جن سے مذاہب کے خلاف ان کی شدید نفرت اور ان کے خلاف ایک مسلسل شدید جنگ کا اظہار ہوتا ہے۔ ماسوسی تنظیمیں قدیم ترین خفیہ تنظیمیں ہیں، جن کے بنانے والے نظروں سے اوجھل ہیں۔ ان کی غرض وغایت اکثر لوگوں سے پوشیدہ ہے، بلکہ اس کے بہت سے ارکان بھی اس سے واقف نہیں، کیونکہ ان سے سرداروں نے جو سازشیں اور خفیہ فریب ترتیب دئیے ہیں، انہیں پوشیدہ رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ اس لئے ان کے اکثر احکام زبانی دئیے جاتے ہیں اور اگر کسی موضوع پر کچھ لکھ کر شائع کرنے ا رادہ کیا جائے تو پہلے اسے ماسونی نگران کونسل کے سامنے پیش کیا جاتا ہے جو اسے شائع کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرتی ہے۔ ماسونیت کی بنیاد جن نظریات پر رکھی گئی ہے وہ مختلف ماخذ سے لئے گئے ہیں۔ جن میں سے اکثر یہودی رسم ورواج ہیں۔ اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ ۱۷۱۷ء میں بڑی عبادت گاہ کی بنیاد رکھتے وقت اور اس کے آداب اور خصوصی اشارات ترتیب دیتے وقت یہودی قوانین وہدایات ہی کو بنیاد بنایا گیا۔ ماسونی اب تک حیرام یہودی کو مقدس قراردیتے ہیں اور ا س کے تعمیر کردہ ہیکل اور معبد کو مقدس سمجھتے ہیں، حتی کہ دنیا میں فری میسن لاج تعمیرکرتے وقت اسی نمونہ کو پیش نظر رکھا جاتا ہے، یہودیوں کے بڑے بڑے پروفیسر اب تک ماسونیت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ فری میسن لاجز میں یہودی تنظیموں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ دنیا بھر میں ماسونیت کے پھیلاؤ اور میسنز میں باہمی تعاون قائم رکھنے کی ذمہ داری انہیں پر عائد ہوتی ہے۔ ماسونیت کے پیچھے پوشیدہ قوت یہی افراد ہیں۔ اس کے خفیہ سیلوں کی قیادت انہی کے خواص کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ وہ ان کے معاملات سنبھالتے، ان کے منصوبے تشکیل دیتے اور حسب منشا ان کی رہنمائی کرتے اور ان سے کام لیتے ہیں اور یہ سب کچھ کامل رازداری کے ساتھ انجام پاتا ہے۔ اس کی تائید ماسونی رسالہ کا اکاسیا کے شمار ۶۶مطبوعہ ۱۹۰۸ میں موجود اس بیان سے ہوتی ہے کہ ’’کوئی فری میسن لاج یہودیوں سے خالی نہیں ہوتا اور تمام یہودیوں کی یہ حالت ہے کہ وہ مذاہب میں داخل نہیں ہوتے بلکہ ان کے کچھ اصول ہوتے ہیں۔ یہی کیفیت ماسونیوں کی ہے۔ اسی وجہ سے یہودی عبادت گاہیں ہماری نیابت کرتی ہیں۔ اسی وجہ سے ماسونیوں میں بہت تعداد میں یہودی پائے جاتے ہیں۔‘‘ نیز اس کی تائی دماسونی ریکارڈ میں موجود اس بات سے بھی ہوتی ہے: ’’یہودیوں کو یقین ہے کہ مذاہب کو مسمرا کرنے کا بہترین ذریعہ ماسونیت ہے۔‘‘ اور اس سے بھی کہ عقیدہ سے ماسونیت کی تاریخ اور یہودیت کی تاریخ ملتی جلتی ہے اور ان کا امتیازی نشان ڈیوڈ کا چھ کونہ ستاہ (DAVID STAR) ہے اور یہود اور ماسونویں دونوں کو ہیکل سلیمانی تعمیر کرنے والو ں کی روحانی اولا دسمجھا جاتا ہے اور ماسونت جو دوسرے مذاہب کی تردید کرتی ہے یہودیت اور اس کے معاونین کو بلند کرنے کے لئے اپنے دروازے چوپٹ کھول دیتی ہے۔ یہودیوں نے دوسری قوموں کی سادگی اور نیک نیتی سے فائدہ اٹھایا ہے اور وہ خود ماسونیت کے اہم مراکز پر قابض ہوگئے۔ اس طرح انہوں نے فری میسن لاجز میں یہودیت کی روح پھونک دی اور اسے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا۔‘‘