کتاب: فتاوی ابن باز - صفحہ 276
تناسخ الأرواح تناسخ ارواح (یعنی روح کا ایک بدن سے دوسرے بدن میں منتقل ہونا) فتویٰ (۵۱۶۷) عقیدۂ تناسخ۔ قرآن کی روشنی میں سوال ہمارے فلسفہ کے استاد نے کہا ہے کہ روح ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہوجاتی ہے۔ کیا یہ صحیح ہے؟ اگر یہ صحیح ہے تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جس روح کو عذاب ہو یا اس کا محاسبہ ہو رہا ہو، وہ منتقل ہوجائے یہ تو دوسرے انسان کا محاسبہ ہوگا؟ جواب: اَلْحَمْدُ للّٰہ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِہِ وآلِہِ وَأَصْحَابِہ وَبَعْدُ: آپ کے استاد کا یہ کہنا صحیح نہیں کہ روح ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہوجاتی ہے۔ اس مسئلہ میں یہ آیت بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ ﴿وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِیْٓ اٰدَمَ مِنْ ظُہُوْرِہِمْ ذُرِّیَّتَہُمْ وَ اَشْہَدَہُمْ عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ قَالُوْا بَلٰی شَہِدْنَا اَنْ تَقُوْلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اِنَّا کُنَّا عَنْ ہٰذَا غٰفِلِیْنَ﴾ (الاعراف۷؍۱۷۲) ’’اور جب تیرے رب نے بنی آدم سے ان کی پشتوں میں سے ان کی اولاد کو نکالا اور انہیں خو د ان پر گواہ بنایا (اور ان سے فرمایا) کیا میں تمہارا رب نہیں؟ انہوں نے کہا ’’کیوں نہیں، ہم گواہی دیتے ہیں (ہم نے یہ اس لئے تمہیں بنادیا ہے) مبادا تم قیامت کے دن کہو کہ ہم تو اس سے بے خبر تھے۔‘‘ اس آیت کی تشریح اس حدیث سے ہوتی ہے جو امام مالک رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’مؤطا‘‘ میں روایت کی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما سے اس آیت کے متعلق سوال کیا گیا: ﴿وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِیْٓ اٰدَمَ مِنْ ظُہُوْرِہِمْ ذُرِّیَّتَہُمْ وَ اَشْہَدَہُمْ عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ قَالُوْا بَلٰی شَہِدْنَا اَنْ تَقُوْلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اِنَّا کُنَّا عَنْ ہٰذَا غٰفِلِیْنَ﴾ (الاعراف۷؍۱۷۲) حضرت عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ’’میں نے کسی کو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کرتے سنا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (أِنَّ اللّٰہَ تَعَالَی خَلَقَ آدَمَ ثُمَّ مَسَحَ ظَھْرَہُ بِیَمِیْنِہِ فَاسْتَخْرَجَ مِنْہُ ذُرِّیَّتَہ،فَقَالَ خَلَقْتُ