کتاب: فتاوی ابن باز - صفحہ 272
جواب: ’’ہاں ہم تناسخ کا عقیدہ رکھتے ہیں اور اس عقیدہ کی بنیاد دوچیزوں پر ہے۔ ایک نقلی دلیل اور ایک عقلی دلیل۔ نقلی دلیل تو یہ آیت کریمہ ہے: ﴿کَیْفَ تَکْفُرُوْنَ بِاللّٰہِ وَ کُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْیَاکُمْ ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیْکُمْ ثُمَّ اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ﴾ (البقرہ۲؍۲۸) ’’تم اللہ کے ساتھ کس طرح کفر کرتے ہو حالانکہ تم بے جان تھے تو اس نے تمہیں زندہ کیا، پھر وہ تم کو موت دے گا، پھر وہ تم کو زندہ کرے گا، پھر تم اس کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔‘‘ اس آیت کریمہ اور بعض دوسری آیات کی تفسیر ہم اس عقیدہ کے مطابق کرتے ہیں۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ مخلوق کے درمیان عدل کرنے والا ہے، پھر اس نے ان کے درمیان امیر، غریب‘ خوش قسمت‘ بدنصیب‘ خوبصورت اور بدصورت کا اتنا فرق کیوں رکھا؟ جب کہ لوگ اس دنیا میں نئے پیدا کئے جاتے ہیں، تو اس عظیم فرق کو دیکھتے ہوئے اور اس پختہ ایمان کی بنیاد پرکہ اللہ تعالیٰ انتہائی عادل ہے اور مذکورہ بالا آیت کی وجہ سے ہم تقمص (نتاسخ) کا عقیدہ رکھتے ہیں۔‘‘ دروزی نے سوال (۱۷) کے جواب میں دروزی نقطہ نظر کے مطابق تقمص(تناسخ = اواگون) کے عقلی اور نقلی دلائل ذکر کئے گئے ہیں۔ پہلے مکالمہ کے چوتھے پیراگراف میں تقمص کیمفہوم کی وضٓحت اور ان کے نقلی دلائل پر بحت ہچوکی ہے اور وہا ں بیان کیا جا چکا ہے کہ یہ تصور محض وہم گمان پر مبنی ہے۔ کیونکہ موت کے بعد زندگی‘ قیامت کے دن کی جزا وسزاء‘ ا سکی نوعیت وکیفیت‘ یہ سب کے سب وحی کے ذریعے ہی معلوم ہوسکتے ہیں۔ ان کی تعیین می ں عقل کا کوئی دخل نہیں۔ انہوں نے جو عقلی دلیل پیش کی ہے کہ اللہ کا عدل اور حکمت کامل ہے اور مخلوق کے کردار، اخلاق‘ اعمال اور روزی میں فرق ہے اور اس کے عدل کا تقاضا یہ ہے کہ ہر جان کو اس کے اعمال کا بدلہ دینے کے لئے دوبارہ دنیا میں پیدا کرے تاکہ ہر جان کو اس کا بدلہ مل جائے اور اس کاطریقہ یہ ہے کہ وہ مرنے والے کیروح کسی اور بدن میں ڈال کر دنیا میں بھیجتا ہے تاکہ اس وجود میں اسے اسکی سزا مل جائے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ مذکورہ بالا دلائل میں سے کسی سے بھی یہ ثابت نہیں ہوتا کہ مرنے کے بعد روح کسی اور جسم میں داخل ہوجاتی ہے، بلکہ یہ صرف ظن وتخمین ہے۔ اس جزاوسزا کی صحیح تفصیل اور کیفیت قرآن وحدیث کی نصوص میں موجود ہے۔ کہ یہ جزا اور سزا اس دنیا کے خاتمے کے بعد ایک اور دن میں ملے گی جس کا نام حشر (قبروں سے اٹھ کر جمع ہونے) اور قیامت (موت سے اٹھنے) کا دن ہے۔ بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی بندے کو اس کے کسی خاص عمل کا بدلہ دنیا میں جیسے چاہتے ہیں دے دیتے ہیں، لیکن اس طرح نہیں جس طرح دروزیوں نے تناسخ کے عقیدہ میں متعین کردیا۔ سوال۱۸: ’’کیا آپ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافت کا حق علی سے زیادہ عمر، ابو بکر اور عثمان کا تھا یا علی کا حق ان سے زیادہ تھا؟‘‘ جواب: ’’یہ چیز تو اللہ ہی جانتا ہے۔ لیکن یہ عقیدہ ہے کہ عمریں متعین ہیں جس طرح آیت میں مذکور ہے: ﴿وَلَنْ یُّؤَخِّرَ اللّٰہُ نَفْسًا اِِذَا جَائَ اَجَلُہَا﴾ (المنافقون۶۳؍۱۱) ’’اللہ کسی جان کو مؤخر نہیں کرتا جب اس کا مقرر وقت آجائے۔‘‘ چونکہ ابوبکر، عمر او رعثمان رضی اللہ عنہما علی رضی اللہ عنہما کی زندگی میں فوت ہوئے ہیں اس لئے اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعدعلی خلیفہ بن جاتے تو ابوبکر، عمر اور عثمان ان کی زندگی میں فوت ہوجاتے اور اس طرح کہ امت سے متعلق اپنا کردار ادا نہ کرسکتے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کی مشیت کا تقاضا یہ تھا کہ (ان میں سے) ہر ایک اپنے اپنے وقت میں امت کی خدمت کا فرض ادا کرے