کتاب: فتاوی ابن باز - صفحہ 270
تقسیم کے معاملے کو الجھانے کی کوشش کی ہے۔ اس کے علاوہ اس نے سنت نبوی سے بالکل اعراض کیا ہے جس سے قرآن مجید میں موجود وصیت کا مطلق حکم مقید ہوجاتا ہے حالانکہ ا س کا لحاظ کرنا ضروری تھا اور اس مسئلہ میں اس نے مسلمانوں کے اجماع کی طرف بالکل توجہ نہیں کی اور غلط استدلال کرنے والے یوں ہی کیا کرتے ہیں کہ کلام کو مجمل رکھتے ہیں اور مخاطب کو شبہ میں ڈال کر باطل کوحق کے رنگ میں پیش کرکے دھوکا دیتے ہیں۔ اسی طرح وہ کج روی کا طریقہ اپناتے اور قرآن کے الفاظ کو صحیح معانی سے ہٹا کر خود ساختہ غلط مفہوم کی طرف لے جاتے ہیں۔ اسی طرح قولی اور عملی طور پر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی مخالفت کرتے ہیں اور صحابہ کرام وائمہ دین کے اجماع کی مخالفت کرکے اپنے دل کی خواہش پوری کرتے اور اپنے جیسوں کی تائید کرتے ہیں۔ سوال۱۵: ’’کیا تم لوگ بیک وقت ایک سے زیادہ عورتیں نکاح میں رکھتے ہو؟‘‘ جواب: ’’ہرگز نہیں، ہمارے مذہب میں ایک سے زیادہ بیویاں رکھنا جائز نہیں، کیونکہ قرآن مجید کی آیت ہے: ﴿وَخَلَقْنٰکُمْ أَزْوَاجاً﴾ (النساء) ’’اور ہم نے تمہیں جوڑے جوڑے پیدا کیا۔‘‘ اور: ﴿وَمِنْ کُلِّ شَیْئٍ خَلَقْنَا زَوْجَیْنِ﴾ (الذاریات۵۱؍۴۹) ’’ہم نے ہر چیز کا جوڑا پیدا کیا۔‘‘ اور: ﴿فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا﴾ (النساء۴؍۳) ’’اور اگر تمہیں ڈر ہو کہ انصاف نہیں کرسکو گے تو ایک سے (نکاح کرو۔)‘‘اور: (وَلَنْ تَعْدِلَوْا أَبَدًا عَلَی النِّسَائِ وَِأنْ حَرَصْتُمْ) ’’اور تم عورتوں میں کبھی انصاف نہیں کرسکو گے اگرچہ تم (انصاف ک) حرص کرو۔‘‘ چونکہ ہمارا عقیدہ ہے کہ دوعورتوں میں عدل ممکن نہیں ا س لئے صاحب شریعت نے ہم پر ایک کے ساتھ رہنا واجب کردیا ہے۔‘‘ دروزی نے سوال (۱۵) کے جواب میں اس چیز کا انکار کیا ہے جس کا دین میں وجود بدیہی ہے۔ یعنی ایک سے زیادہ بیویوں کا جواز اور اپنے باطل مؤقف پر ان چیزوں سے دلیل لانے کی کوشش کی ہے جس سے ان کا دعویٰ ثابت نہیں ہوتا۔ چنانچہ اس نے ارشاد ربانی تعالیٰ: وَخَلَقْنٰکُمْ أَزْوَاجاً اور ارشاد ربانی تعالیٰ: وَمِنْ کُلِّ شَیْئٍ خَلَقْنَا زَوْجَیْن سے استدلال کیا ہے۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اشیاء کی تخلیق میں اپنی تکوینی سنت کو بیان کیا ہے کہ اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ جانداروں کی ہر نوع کو۔ خواہ وہ حیوانات ہوں یا نباتات‘ مذکر اور مؤنث پیدا کیا ہے۔ ہر ایک میں دو مقابل انواع پیدا کی ہیں تاکہ ان کے ملاپ سے نسل قائم رہے اور زندہ مخلوقات باقی رہیں اور مختلف فوائد حاصل ہوں۔ ان آیات کا تعددازدواج سے دور کا بھی تعلق نہیں۔ لہٰذ ان سے متعدد بیویوں کے ممنوع ہونے پر استدلال کرنا تحریف اور قرآن کے الفاظ کو من مانا مفہوم دینے کے متراف ہے۔ باقی رہی آیت کریمہ: ﴿فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَۃً اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ﴾ (النساء۴؍۳)’’پس اگر تمہیں خطرہ ہو کہ انصاف نہیں کرسکو گے تو ایک