کتاب: فتاوی ابن باز - صفحہ 265
کرنا تو من مانی تفسیر اور معنوی تحریف ہے جس کی تائید عربی زبان سے نہیں ہوتی اور قرآن وحدیث کی صریح نصوص اس کی تردید کرتی ہیں، تمام اہل ایمان علماء کا اجماع اس کے برعکس ہے۔ باقی رہی حدیث جو انہوں نے ذکر کی ہے تو اس کا پتہ حدیث کی مشہور کتابوں میں سے کسی میں نہیں ملتا اور مختلف زبانوں میں کافر طبقات کا وجود اس حدیث کے جعلی ہونے کی دلیل ہے۔ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے آباؤاجداد کے ہر طبقہ میں مومن مرد کی پشت اور مومن عورت کے پیٹ میں منتقل نہیں ہوئے۔ بلکہ ان میں سے بعض مومن تھے مثلاً ابراہیم اور اسماعیل علیہ السلام اور بعض کافر تھے (مثلاً آزر) پس یہ حدیث موضوع ہے یعنی کسی نے جھوٹ گھڑ کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسب کردیا ہے۔ اسی طرح آیت مبارکہ: ﴿کُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُہُمْ بَدَّلْنٰہُمْ جُلُوْدًاغَیْرَہَا لِیَذُوْقُوا الْعَذَابَ﴾ (النساء۴؍۵۶) ’’جب بھی ان کی کھالیں جل جائیں گی ہم تبدیل کر کے انہیں دوسری کھالیں دے دیں گے تاکہ وہ عذاب چکھیں۔‘‘ یہ واضح طور پر کافر جہنمیوں کے بارے میں ہے کہ قیامت کے دن انہیں مسلسل عذاب ہوتا رہے گا۔ یہ کسی بھی طرح اس بات کی دلیل نہیں بن سکتی کہ جب کوئی انسان دیا میں مرتا ہے تو اس کی روح اس کے جسم سے نکل کر کسی اور جسم میں داخل ہوجاتی ہے تاکہ وہ جسم ا س کے لیے قید اور عذاب کا باعث بنا رہے۔ اس آیت کی تفسیر اس انداز میں کرنا صریح تحریف بلکہ آیات قرآنی سے مذاق کے مترادف ہے۔ اس مکالمہ کے آخر میں درزی نے لکھا ہے کہ نام نہاد شیخ رافعی نے اعتراف کیا ہے کہ دروز ایک اسلامی فرقہ ہے، یہ اعتراف یقیناً ایک خیالی اعتراف ہے جو ایک فرضی تصوراتی شیخ نے کیا ہے۔ اگر ہم کچھ دیر کے لیے فرض کر لیں کہ واقعی کسی شیخ نے کسی درزی طالب علم سے بحث کی ہو اور ان دونوں میں یقیناً یہی بات چیت ہوئی ہو، تب بھی یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اس بات چیت سے جو نتیجہ نکالا گیا ہے، وہ صحی ہے، کیونکہ بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک آدمی اپنے موقف میں سچا ہوتا ہے لیکن کم علمی اور مناظرہ میں کمزوری کی وجہ سے شکست کھا جاتا ہے۔ لہٰذا اس کا ہار مان لینا مناظرہ کے موقف کے صحیح ہونے کی دلیل نہیں ہوتا، نہ اس سے اس کا دعویٰ اور عقیدہ ثابت ہوتا ہے۔ دوسرے مکالمہ میں جھوٹ اور فریب کی وضاحت پمفلٹ میں دوسرے مکالمہ کا ایک فریق انکے دعوے کے مطابق ایک سنی عالم ہے، جس کا نام ’’شیخ الحق حسینی‘‘ ہے۔ جو کسی کالج میں شعبہ علوم شرقیہ کا سربراہ ہے۔ دوسرا فریق دروز کے مذہب سے تعلق رکھنے والا ایک پروفیسر ہے جس کا نام ’’ابوحسن زیدان‘‘ ہے۔ اس مکالمہ میں اس شخص نے کچھ سوال کئے ہیں جسے سنی ظاہر کیا گیا ہے اور دروزی ان کے جواب میں دیتا ہے۔ ان سوالات اور جوابات کا اسلوب بڑا گھٹیا، زبان عربی قواعد کے لحاظ سے کمزور اورمطالب پھس پھسے، مجمل اور غیر تعلق نہیں اور مناظرہ میں ان کی کوئی اہمیت نہیں، نہ اس کے نتائج قابل توجہ ہیں۔ ان کی پوری بات چیت یہاں درج کی جاتی ہے۔ سوال۱: فرضی سنی نے کہا: ’’تمہارا دین کیا ہے؟‘‘