کتاب: فتاوی ابن باز - صفحہ 259
کی۔ جب حاکم فوت ہوا، تو ملک کی قیادت اس کے بیٹے علی کے حصہ میں آئی۔ اس کا لقب ’’ظاہر لا عزاز دین اللہ‘‘ تھا۔ اس نے اپنے باپ کو دعویٰ الوہیت سے لاتعلقی کا اعلان کردیا اور مصر سے یہ دعوت ختم ہوگئی۔ چنانچہ حمزہ شام کی طرف فرار ہوگیا، اس کے ساتھ اس کے بعض ہم خیال افراد بھی چلے گئے۔ ان میں سے اکثر اس علاقے میں جابسے جو بعد میں شام کے اندر ’’جبل الدروز‘‘ کے نام سے مشہور ہوا۔ ان کے اہم عقائد (۱) وہ حلول کے قائل ہی: ان کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت علی رضی اللہ عنہما کی ذات میں حلول کیا، ان کے بعد ان کی اولاد میں یکے بعد دیگرے حلول کرتا رہا حتیٰ کہ حاکم عبیدی ابو علی منصور بن عبدالعزیز کی ذات میں حلول کیا۔ یعنی الوہیت اس کی ناموست میں حلول کرگئی۔ وہ حاکم کی رجعت کے قائل ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ غائب بھی ہوجاتا ہے اور ظاہر بھی ہوجاتا ہے۔ (ب) تقیہ: وہ اپنے اصل مذہب سے کسی کو واقف نہیں ہونے دیتے، صرف اسی کو حقیقت معلوم ہوتی ہے جو ان کا ہم مذہب ہوتا ہے۔ وہ اپنے راز کی جماعت کے صرف اس شخص پر ظاہر کرتے ہیں جس پر انہیں اعتماد ہو اور اس سے کسی قسم کا خطرہ نہ ہو۔ (ج) عصمت ائمہ: ان کا عقیدہ ہے کہ ان کے ائمہ غلطی اور گناہ سے معصوم ہیں بلکہ وہ انہیں اللہ کے سوا معبود بنا کر باقاعدہ ان کی عبادت کرتے ہیں جیسا کہ حاکم کے ساتھ ان کا رویہ تھا۔ (د) علم باطن کا دعویٰ: وہ کہتے ہیں کہ نصوص شریعت کے باطنی معنی بھی ہوتے ہیں اور درحقیقت ظاہری معنی کے بجائے وہی معنی مقصود ہوتے ہیں اس کی بنیاد پر انہوں نے قرآن وحدیث کی اخبار اور اورمرونواہی پر مشتمل نصوص میں معنوی تحریف کی ہے۔ اخبار پر مشتمل نصوص میں انہوں نے اس طرح تحریف کی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صاف کمال کا انکار کیا، روز قیامت اور اس میں ہونے والے حساب وکتاب اور جزاء وسزا، جنت وجہنم سب کا انکار کیا، اس کے بدلے آواگون اور تناسخ ارواح کا عقیدہ اختیار کیا یعنی ان کے قول کے مطابق جب کوئی انسان یا حیوان مرتا ہے تو اس کی روح کسی اور انسان یا حیوان کے جسم میں داخل ہو کر ایک نئی زندگی شروع کردیتی ہے اور اسی زندگی میں اسے (سابقہ زندگی کے اعمال کے مطابق) نعمت وراحت یا عذاب ومصیبت حاصل ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ زمانہ ہمیشہ رہنے والا ہے اور جہان ابدی ہے، ماؤں سے نئے افراد جنم لیتے ہیں اور زمین کے پیٹ میں چلے جاتے ہیں۔ وہ فرشتوں اور انبیاء کی رسالت کے منکر ہیں اور اپنے اصول ونظریات میں ارسطو کے پیروکار اور مشائین کے فلسفوں کے فلسفیوں کے مقلد ہیں۔ اوامرونواہی پر مشتمل نصوص میں انہوں نے اس طرح تحریف کی ہے کہ انہیں نئے خود ساختہ معانی دے دئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ نماز سے مراد روزانہ پڑھی جانے والی پانچ نمازیں نہیں بلکہ اس کا مطلب ان کے اسرار کا علم حاصل کرنا ہے۔ روزہ کا مطلب یہ نہیں کہ صبح صادق سے غروب آفتاب تک کھانے پینے سے پرہیز کیا جائے بلکہ اس کا مطلب اسرار کی حفاظت ہے۔ حج کا مطلب مقدس ہستیوں کی ملاقات ہے۔ وہ ہر قسم کی ظاہر اور پوشیدہ بے حیائی کو جائز قرار دیتے ہیں حتیٰ کہ ماں بہن سے نکاح بھی حلال سمجھتے ہیں۔ اس کے علاوہ نصوص کی مضحکہ خیز تاویلات اور متفق علیہ واضح شرعی فرائض کا انکار ان کا شیوہ ہے۔ اسی طرح امام ابو حامد غزالی اور دیگر علماء نے ان لوگوں کے