کتاب: فتاوی ابن باز(جلد 2) - صفحہ 253
یہ ان کے عقائد کا مختصر بیان ہے۔ اب ہم آپ سے چند سوالات عرض کرتے ہیں: (۱) کیا یہ فرقہ اسلامی فرقوں میں سے ہے یا کفر کے فرقوں میں سے؟ (۲) کیا ان کے مردوں کا جنازہ پڑھنا جائز ہے؟ (۳) کیا انہیں مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا جائز ہے؟ (۴) کیا ان سے شادی بیاہ کا تعقل قائم کرنا جائز ہے؟ (۵) کیا ان کے ہاتھ کا ذبیحہ حلال ہے؟ (۶) کیا ان سے مسلمانوں والا سلوک کیا جائے؟ آپ سے اللہ تعالیٰ کے نام پر گزارش ہے کہ اس استفتاء کا جواب ارشاد فرمائیں اور مسلمانوں کے دلوں سے شکوک وشبہات دور فرمائیں۔ کیونکہ یہ لوگ اب تک اپنے عقائد پوشیدہ رکھتے ہیں۔ اس لئے متقدمین علماء انہیں ’’باطنیہ‘‘ کے نام سے یاد کرتے تھے۔ اب انہوں نے اپنے عقائد ظاہر کردئے ہیں اور لوگوں کو سرعام ان عقائد کی طرف بلاتے ہیں۔ ان کا مقصد مسلمانوں کو عقائد کے بارے میں گمراہ کرنا ہے اور مقاصد بھی ہوں گے جو ہمیں معلوم نہیں۔ جواب اَلْحَمْدُ للّٰہ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِہِ وآلِہِ وَأَصْحَابِہ وَبَعْدُ: (۱) یہ عقیدہ رکھنا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت علی رضی اللہ عنہما یا کسی اور شخص کی ذات میں حلو کیا ہے، خالص کفر ہے جو انسان کو اسلام سے خارج کردیتا ہے۔ اسی طرح یہ عقیدہ بھی کفر ہے کہ اللہ کے سوا کوئی اور بھی زمین وآسمان میں تصرف کرسکتا ہے۔ اللہ تعا لیٰ کا ارشاد ہے: ﴿اِنَّ رَبَّکُمُ اللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ یُغْشِی الَّیْلَ النَّہَارَ یَطْلُبُہٗ حَثِیْثًا لاوَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ وَ النُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍ بِاَمْرِہٖ اَلَا لَہُ الْخَلْقُ وَ الْاَمْرُ تَبٰرَکَ اللّٰہُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ﴾ (الاعراف۷؍۵۴) ’’بلاشبہ تمہارا رب اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا پھر عرش پر مستوی ہوا، وہ رات پر دن کو اوڑھتا دیتا ہے، (دونوں) ایک دوسرے کو تیزی سے طلب کرتے ہیں اور سورج چاند ستارے اس کا حکم کے تابع ہیں۔ خبردار! تخلیق بھی اسی کی ہے اور حکم بھی‘ برکت والا ہے اللہ،جہانوں کا پالنے والا ہے۔‘‘ (۲) جو شخص یہ عقیدہ رکھے کہ اس کے لئے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت سے نکلنے کی گنجائش ہے تو وہ کافر ہو کر اسلام سے خارج ہوجاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت یہ قرآن ہے جسے اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پ روحی کے ذریعہ نازل فرمایا: ارشاد ہے: ﴿وَ قُرْاٰنًا فَرَقْنٰہُ لِتَقْرَاَہٗ عَلَی النَّاسِ عَلٰی مُکْثٍ وَّ نَزَّلْنٰہُ تَنْزِیْلً﴾ (الاسراء۱۷؍۱۰۶) ’’اور قرآن کو ہم نے جدا جدا (واضح‘ یا تھوڑا تھوڑا) کرکے نازل کیا ہے تاکہ آپ اسے لوگوں کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھ کر سنائیں اور ہم نے اسے بتدریج نازل کیا ہے۔‘‘ شریعت میں سنت نبوی بھی شامل ہے جو قرآن کی وضاحت اور تفصیل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَ مَآ اَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْکِتٰبَ اِلَّا لِتُبَیِّنَ لَہُمُ الَّذِی اخْتَلَفُوْا فِیْہِ وَ ہُدًی وَّ رَحْمَۃً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْن﴾ (النحل۱۶؍۶۴) ’’اور ہم نے آپ پر قرآن صرف اس لئے نازل کیا ہے کہ آپ انہیں وضاحت سے وہ باتیں سمجھا دیں جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں، اور ایمان لانے والے لوگوں کے لئے ہدایت اور رحمت (بنا کر نازل کیا ہے)۔‘‘