کتاب: فتاوی ابن باز - صفحہ 252
الباطنیۃ باطنیہ فتویٰ (۵۵۰۸) فرقۂ باطنیہ یعنی اسماعیلیہ آغا خانیہ کے عقائد سوال کیا فرماتے ہیں علمائے اسلام اور فقہائے کرام فرقہ اسماعیہ آغا خانیہ کے بارے میں، جن کے افراد مختلف علاقوں میں، خصوصاً پاکستان کے شمالی حصو ں میں آباد ہیں۔ ہم ان کے بعض عقائد بیان کرتے ہیں اور کچھ اقوال ذکر کرتے ہیں جن سے ان کے عقائد معلوم ہوتے ہیں۔ (۱) کلمہ: أشھد أن لا الہ ألا اللّٰہ،واشھدأن محمدا رسول اللّٰہ،وأشھد أن أمیر المومنین علیا اللّٰہ۔ ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کو ئی معبود نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ علی ہی اللہ ہیں۔‘‘ مسلمانوں کے لئے کلمۂ توحیدوشہادت کے مقابلے میں ان کا یہ کلمہ ہے جسے وہ اسلام کا حقیقی کلمہ کہتے ہیں۔ (۲) امام: ان کا عقیدہ ہے کہ آغا خان شاہ کریم ان کا امام ہے، وہ زمین اور کائنات کی ہر شے کا مالک ہے، خواہ وہ خیر ہو یا شر، ان کا عقیدہ ہے کہ تمام جہان میں اسی کا حکم چلتا ہے۔ (۳) شریعت: وہ شریعت اسلامیہ کی اتباع کے قائل نہیں، بلکہ ان کا عقیدہ ہے کہ آغا خان ’’بولتا ہوا قرآن‘‘ ہے اور وہی حقیقی اصل قرآن ہے، وہی کعبہ ہے، وہی بیت العمور ہے، وہی واجب اتباع ہے، اس کے سوا کوئی واجب الاتباع نہیں۔ ان کی کتابوں میں لکھا ہوا ہے کہ ظاہری قرآن میں جہاں بھی ’’اللہ کا لفظ آیا ہے اس سے مراد آغا خان ہے۔ (۴) نماز: وہ پانچ نمازوں کے قائل نہیں، بلکہ ان کی جگہ تین وقت کی دعا کو واجب کہتے ہیں۔ (۵) مسجد: وہ مسجد کی بجائے ایک اور عبادت خانہ بناتے ہیں اور اسے جماعت خانہ کہتے ہیں۔ (۶) زکوٰۃ: وہ شرعی زکوٰۃ کے منکر ہیں، اس کی بجائے ہر قسم کے مال کا دسواں حصہ آغا خان کو دیتے ہیں، اسے ’’دشوند‘‘ کہتے ہیں۔ (۷) روزہ: وہ ماہ کے رمضان کے روزوں کے منکر ہیں۔ (۸) حج: وہ خانہ کعبہ کے حج کی فرضیت کے قائل نہیں، ان کا عقیدہ ہے کہ آغا خان کی زیارت ہی اصل حج ہے۔ (۹) سلام: ’’السلام علیکم‘‘ کے بجائے ان کا ایک الگ سلام ہے۔ سب وہ ایک دوسرے کو ملتے ہیں تو کہتے ہیں ’’علی مدد‘‘ یعنی علی مدد دے۔ اس کے جواب میں ’’وعلیکم السلام‘‘ کے بجائے ’’مولا علی مدد‘‘ کہتے ہیں۔