کتاب: فتاوی ابن باز - صفحہ 25
قرآن مجید کی آیات نازل ہوگئیں۔‘‘ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ :’’میں نے دیکھا کہ وہ (منافق) شخص جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کے پہلو کی رسی پکڑے (گویا) لٹکتا چلا آرہا تھا اور اسے (چلتے ہوئے راستے میں) پتھر لگ رہے تھے۔ وہ (معذرت کے طور پر) کہہ رہا تھا: ’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم تو محض گپ شپ اور دل لگی کر رہے تھے۔‘‘ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (جواب) قرآن کی یہ آیت تلاوت کرتے تھے۔ ﴿اَبِاللّٰہِ وَ اٰیٰتِہٖ وَرَسُوْلِہٖ کُنْتُمْ تَسْتَہْزِئُ وْنَ٭ لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ کَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِکُمْ اِنْ نَّعْفُ عَنْ طَآئِفَۃٍ مِّنْکُمْ نُعَذِّبْ طَآئِفَۃً بِاَنَّہُمْ کَانُوْا مُجْرِمِیْن ﴾ (التوبہ۹/ ۶۵،۶۶) ’’کیا تم اللہ سے اس کی آیات سے اور اس کے رسول سے ٹھٹھا کرتے تھے؟ (اب) معذرت نہ کرو، تم ایمان لانے کے بعد کافر ہوچکے ہو۔‘‘اگر ہم میں میں سے ایک جماعت کو معاف کردیں تو ایک جماعت کو عذاب بھی دیں گے کیونکہ یہ لوگ مجرم تھے۔‘‘ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان سے ٹھٹھا کرنے کو اللہ تعالیٰ، اس کی آیات اور اس کے رسول سے ٹھٹھا کرنا فرمایا ہے۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَسَلَّمَ اللجنۃ الدائمۃ ۔ رکن: عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان، نائب صدر: عبدالرزاق عفیفی، صدر عبدالعزیز بن باز ٭٭٭ فتویٰ (۵۴۳۲) زمانے کو گالی نہ دو سوال کیا یہ حدیث ہے کہ (لَا تَسُبُّوا الدَّھْرَ فَأَنَا الدَّھْرُ أُقَلَّبُ… الخ) ’’زمانے کو گالی نہ دو۔ میں ہی زمانہ ہوں… ’’اگر یہ حدیث ہے تو کیا یہ صحیح حدیث ہے؟ اور اس کا مطلب کیا ہے؟ جواب الْحَمْدُ للّٰہ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِہِ آلِہِ وَأَصْحَابِہ وَبَعْدُ: امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی یُوْذِینِیْ ابْنُ آدَمَ یَسُبُّ الدَّھْرَ وَأَنَا الدَّھْرُ أَقْلِّبُ الَّیْلَ وَالنَّھَارَ) ’’اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ابن آدم مجھے ایذا پہنچاتا ہے، وہ زمانے کو گالی دیتا ہے اور میں ہی زمانہ ہوں، رات اور دن کو بدلتا ہوں‘‘ (لَا تَسُبُّو الدَّھْرَ فَأِنَّ اللّٰہَ ھُوَالدَّھْرُ) ’’زمانے کو گالی دوکیونکہ اللہ ہی زمانہ ہے۔‘‘ اس حدیث کی تشریح میں امام بغوی' فرماتے ہیں: ’’عربوں کی یہ عادت تھی کہ وہ مصیبت کے وقت زمانے کو برابھلا اور گالی دیتے تھے۔ کیونکہ وہ مصیبتوں اور تکلیفوں کو زمانے کی طرف منسوب کرتے تھے۔