کتاب: فتاوی ابن باز - صفحہ 248
﴿مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓئً ا یُّجْزَ بِہٖ وَ لَا یَجِدْلَہٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَ لِیًّاوَّ لَا نَصِیْرًا٭وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ مِنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی وَ ہُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِکَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ نَقِیْرًا﴾ (النساء۴؍۱۲۳۔۱۲۴) ’’جو شخص بھی برائی کرے گا اسے اس کا بدلہ دیا جائے گا اور اللہ کے سوا اپنا کوئی دوست یا مدد گار نہیں پائے گا اور جو نیک عمل کرے گا، خوہ مرد ہو یا عورت‘ بشرطیکہ وہ مومن ہو، تو ایسے لوگ ہی جنت میں داخل ہوں گے اور ان پر کھجور کی گٹھلی کے شگاف برابر بھی ظلم نہیں کیاجائے گا۔ (یعنی وہ برابر بھی ان کے حق تلفی نہیں کی جائے گی) مزید فرمایا: ﴿وَاَنْ لَّیْسَ لِلْاِِنسَانِ اِِلَّا مَا سَعٰی﴾ (النجم۵۳؍۳۹) ’’اور اے انسان کے لئے صرف وہی کچھ ہے جو اس نے کوشش کی۔‘‘ اور فرمایا: ﴿وَ لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی وَ اِنْ تَدْعُ مُثْقَلَۃٌ اِلٰی حِمْلِہَا لَا یُحْمَلْ مِنْہُ شَیْئٌ وَّ لَوْ کَانَ ذَاقُرْبٰی﴾ (الفاطر۳۵؍۱۸) ’’اور کوئی بوجھ اٹھانے والی (جان) کسی دوسری (جان) کا بوجھ نہیں اٹھائے گی اور اگر کوئی بوجھ سے لدی ہوئی کسی کو اپنے (بھاری) بوجھ کی طرف بلائے گی (کہ کوئی تھوڑا سا اس کا بوجھ اٹھا کر اس کی مدد کرے) تو اس (بوجھ) میں سے کچھ بھی نہیں اٹھایا جائے گا۔ چاہے (جسے بلایا گیا ہے وہ) قریب ترین رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو۔‘‘ اس کے علاوہ دیگر بہت سی آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر شخص کو صرف اپنے اعمال کابدلہ ملے گا، خواہ وہ اچھا ہو یا برا نیز صحیح حدیث میں وارد ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَاَنذِرْ عَشِیرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ﴾ (الشعراء۲۶؍۲۱۴) ’’اپنے قریبی رشتہ داروں کو (اللہ کے عذاب سے) ڈرائیے‘‘ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا: (یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ۔ أَوْ کَلِمَۃً نَحُوَھَا۔ اشْتَرُو أَنْفُسَکُمْ لاَ أُغنِي عَنْکُمْ مِنَ اللّٰہِ شَیْئاً، یَا عَبَّاسُ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لاَ أُغْنِي مِنَ اللّٰہہِ شَیْئاً، یَا صَفِیَّۃُ عَمَّۃَ رَسُولِ اللّٰہِ لاَ أُغْنِي عَنْکَ مِنَ اللّٰہِ شَیْئاً، یَافَاطِمَۃُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ سَلِیْنِي مِنْ مَالِي مَاشِئْتِ لاَ أُغْنِي عَنْکِ مِنَ اللّٰہِ شَیْئاً) ’’اے جماعت قریش! اپنی جانوں کو خرید لو (ایمان قبول کرکے جان بچالو) میں اللہ کے سامنے تمہارے کسی کام نہیں آؤں گا اے عباس بن عبدالمطلب! میں اللہ تعالیٰ کے حضور آپ کے کسی کام نہیں آؤں گا۔ اے اللہ کے رسول کی پھوپھی صفیہ! میں اللہ کے حضور آپ کے کسی کام نہیں آؤں گا۔ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی فاطمہ! میرے مال سے جو چاہے مانگ لے، میں اللہ کے حضور تیرے کچھ کام نہیں آؤں گا۔‘‘[1] [1] صحیح بخاری جدیث نمبر: ۴۷۷۰۔ مسند دارمی ج:۲، ص:۳۰۵۔