کتاب: فتاوی ابن باز - صفحہ 246
أِلاَّ بِقَوْلِہِ: قَدْ بَایَعْتُکِ عَلَی ذَالِکِ) ’’میں نے تجھ سے بیعت لے لی ہے۔ اللہ کی قسم‘ بیعت کے دوران کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ کسی عورت کے ہاتھ سے مس نہیں ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما کر ان سے بیعت لے لیت تھے: ’’میں نے تجھ سے ان شرطوں پر بیعت لے لی ہے۔‘‘ [1] جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے بیعت لیتےہ وئے بھی مصافحہ نہیں کیا بلکہ زبانی بیعت کی، حالانکہ اس وقت مصافحہ کا تقاضا (بیعت) موجود تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم معصوم بھی تھے اور آپ کے متعلق فتنہ کا اندیشہ بھی نہیں جا سکتا ، تو امت کے افراد کو بالاولیٰ اجنبی عورتوں سے مصافحہ کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے بلکہ اس کےلیے مصافحہ حرام ہے ، اس کے اور اس کے خاندان والوں کے ہاتھ پاؤں چومنے کا تو ذکر ہی کیا؟ صحیح حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان موجود ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ((إِنِّى لَا أَصَافَحُ النِّسَاءَ)) ’’میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا۔‘‘ [2] اوراللہ تعالیٰ نےفرمایا ہے : ﴿ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ﴾ (الاحزاب ۳۳/ ۲۱) ’’یقیناً تمہارے لیے اللہ کے رسول کی ذات میں بہترین نمونہ ہے ۔‘‘ بوہرہ پیر کے باطل دعوے سوال بوہرہ فرقہ کا پیر یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ روح اور ایمان کا کلی طور پر مال ہے ،یعنی اپنے متبعین کی نیابت کرتے ہوئے دینی عقائد کا مالک ہے ۔ جواب اَلْحَمْدُ للّٰہ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِہِ وآلِہِ وَأَصْحَابِہ وَبَعْدُ: اگر بوہرہ فرقہ کا پیر مذکورہ دعویٰ کرتا ہے تواس کایہ دعویٰ باطل ہے ۔ اگر روح اور ایمان کا مالک ہونے سے اس کا یہ مطلب ہے کہ روح اور دل اس کے قبضے میں ہیں، وہ انہیں جدھر چاہے پھیر سکتا ہے ، انہیں ہدایت کی طرف لاسکتا ہے یا راہ راست سے گمراہ کر سکتا ہے تو یہ شان صرف اللہ تعالیٰ کی ہے ۔ اس کا ارشاد ہے : ﴿ فَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ وَمَنْ يُرِدْ أَنْ يُضِلَّهُ يَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَيِّقًا حَرَجًا كَأَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِي السَّمَاءِ كَذَلِكَ يَجْعَلُ اللَّهُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ ﴾ (الانعام ۶/ ۱۲۵) ’’اللہ تعالیٰ جس کو ہدایت دینا چاہتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جسے گمراہ کرنا چاہتا ہے اس کا سینہ تنگ اور گھٹا ہوا کردیتا ہے گویا وہ آسمان میں چڑھ رہا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اسی طرح پلیدی مسلط کردیتا ہےان [1] مسند احمد ج:۲، ص:۱۶۳، ج:۳، ص:۱۱۳، ج:۴، ل:۱۸۲، ص:۹۱، ۲۵۱، ۳۲۲،۔ صحیح مسلم مع نووی ج:۱۲، ض:۲۰۳۔ جامع ترمذی حدیث نمبر: ۲۱۴۰، ۳۵۲۔ سنن ابن ماجہ حدیث نمبر: ۳۸۳۴۔ [2] مسند احمد ج:۲، ص:۳۵۷، ۴۵۴، ۴۵۹۔ مؤطا مالک ج: ۲، ص: ۹۸۲۔ سنن ابن ماجہ حدیث نمبر : ۲۸۷۴