کتاب: فتاوی ابن باز - صفحہ 242
جناب والا سے گزارش ہے کہ واضح تسلی مدلل جواب دیں، خصوصاً مذہب شیعہ اور ان کے عقائد کے متعلق بتائیں اور اسلام میں نئے ایجاد ہونے والے بعض مسالک بیان کری۔ جواب اَلْحَمْدُ للّٰہ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِہِ وآلِہِ وَأَصْحَابِہ وَبَعْدُ: شیعہ امام مذہب اپنے اصولی اور فروعی مسائل کے لحاظ سے ایک نو ایجاد مذہب ہے آپ ’’الخطوط العریضۃ‘‘ ’’مختصر تحفۃ اثنا عشریۃ‘‘ اور شیخ الاسلام کی کتاب ’’منہاج السنۃ‘‘ کا مطالعہ کریں۔ ان کتابوں میں ان کی بہت سی بدعات مذکور ہیں۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَسَلَّمَ اللجنۃ الدائمۃ ۔ رکن: عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان، نائب صدر: عبدالرزاق عفیفی، صدر عبدالعزیز بن باز ٭٭٭ فتویٰ (۱۱۴۶۱) خمینی کے نظریات کی ایک جھلک سوال نائجیریا میں مسلمان نوجوانوں میں ایرانی شیعی انقلاب اور آیت اللہ خمینی کی محبت بہت پھیل گئی ہے۔ یہ نوجوان سمجھتے ہیں کہ اسلامی دنیا میں ایران کے سوا کوئی اسلامی حکومت شریعت کے مطابق فیصلہ نہیں کرتی اور آیت اللہ خمینی کے سوا کسی مملکت کا سربراہ مسلمان نہیں۔ اب نائجیریا میں ان کی دعوت پھیلنے لگ گئی ہے۔ اس لئے ہم آپ سے گزارش کرتے ہیں کہ ایران کے شیعہ اور اس حکومت کے سربراہ آیت اللہ خمینی اور اس کی دعوت کے متعلق وضاحت سے بیان فرمائیں، ہم ان شاء اللہ اس کا ترجمہ ہو سا اور انگریزی زبانوں میں کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ اس ملک میں ہمیں اس عقیدہ سے نجات مل سکے۔ کیونکہ ایران کی حکومت نائجیریا میں مسلمانوں کو ہر ماہ بہت سی کتابیں بھیجتی ہے۔ لہٰذا ہمیں فتویٰ دیجئے اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے اور برکت دے۔ جواب اَلْحَمْدُ للّٰہ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِہِ وآلِہِ وَأَصْحَابِہ وَبَعْدُ: ان نوجوانوں کا یہ خیال کہ اسلامی دنیا میں ایران کے سوا کوئی اسلامی حکومت شریعت کے مطابق فیصلہ نہیں کرتی اور آیت اللہ خمینی کے سوا کسی مملکت کا سربراہ نہیں، ایک غلط خیال بلکہ جھوٹ اور افتراء ہے۔ جس طرح کہ حکومت ایران اور اس کے سربراہ کے عقیدہ وعمل سے واضح ہے۔ اثنا عشری امامیہ شیعہ نے اپنی کتابوں میں اپنے اماموں سے نقل کیا ہے کہ وہ قرآن مجید جسے عثمان رضی اللہ عنہما نے حفاظ قرآن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے تعاون سے جمع کیا تھا وہ اصل قرآن میں تحریف یعنی کمی‘ زیادتی‘ بعض الفاظ اور جملوں میں تبدیلی اور بعض آیات اور سورتوں کو حذف کرکے تیار کیا گیا تھا۔ جو شخص بھی حسین بن محمد تقی نوری طبرسی کی کتاب ’’فصل الخطاب فی اتبات تحریف کتاب رب الارباب‘‘ پڑھے گا، جس میں قرآن مجید کی تحریف ثابت کی گئی ہے اور اس طرح کے دوسرے افراد کی وہ کتابیں پڑھے گا جو رافضیوں کی تائید اور ان کے مذہب کے اثبات میں لکھی گئی ہیں مثلاً ابن مطہر کی ’’منہاج الکرامہ‘‘ اس کے سامنے یہ تمام باتیں واضح طور پر آجائیں گی۔ اسی طرح وہ سنت نبوی کے صحیح مجموعوں مثلاً صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی طرف تونہ نہیں کرتے اور عقیدہ یا فقہ کے مسائل معلوم کرنے کے لیے ان کتب احادیث کو استدلال کی قابل نہیں سمجھتے اور قرآن مجید کے فہم وتفسیر کے لیے ان پر اعتماد نہیں کرتے۔ بلکہ انہوں نے حدیث کی اپنی کتابیں بنا رکھی ہیں اور اپنے الگ الٹے سیدھے اصول بنا رکھے ہیں جن سے وہ اپنے