کتاب: فتاوی ابن باز - صفحہ 24
کیجئے جو بہتر ہے۔ آپ کا رب خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹک گیا اور وہ ہدایت پانے والوں سے بھی خوب واقف ہے‘‘ (۲) دعوت وتبلیغ کا کام کرنے والے کو معلوم ہونا چاہئے کہ کس کام کا حکم دینا اور کس کام سے روکنا ہے۔ ممکن ہے ایک شخص نیکی کرنا چاہتا ہو اور اس کے دل میں لوگوں کے نفع پہنچانے کا شوق ہو لیکن وہ حلال وحرام سے کماحقہ واقف نہ، لہٰذا حرام کو حلال اور حلال کو حرام قراردیتا رہے او راپنی جگہ پر یہ سمجھ رہا ہو کہ وہی ہدایت پر ہے۔ (۳) دین کو گالی دینا، قرآن وحدیث کی کسی چیز سے ٹھٹھا کرنا، قرآن وسنت پر عمل کرنے والے کو نشانہ تضحیک بنانا۔ مثلاً مرد کو داڑھی رکھنے اور عورت کو پردہ کرنے کی وجہ سے مذاق کرنا، کفر ہے۔ لیکن ایسی حرکتن کرنے والے کو پہلے سمجھانا چاہئے کہ یہ کفر ہے، اگر معلوم ہوجانے کے بعد بھی اس رویے پر اصرار کرے تو وہ کافر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَبِاللّٰہِ وَ اٰیٰتِہٖ وَرَسُوْلِہٖ کُنْتُمْ تَسْتَہْزِئُ وْنَ٭ لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ کَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِکُمْ ﴾ (التوبہ۹/ ۶۵،۶۶) ’’کیا تم اللہ سے اس کی آیات سے اور اس کے رسول سے ٹھٹھا کرتے تھے؟ (اب) معذرت نہ کرو، تم ایمان لانے کے بعد کافر ہوچکے ہو۔‘‘ (۳) قبر پرستی اور طاغوت کی پوجا شرک اکبر ہے۔ اگر کسی عاقل بالغ شخص سے اس کا ارتکاب ہو، اسے شرعی حکم سے آگاہ کرنا چاہئے۔ اگر وہ شریعت کا حکم قبول کرلے تو بہتر ہے ورنہ وہ مشرک ہوجاتاہے؟ اگر اس کا خاتمہ اس شرک کی حالت میں ہوگیا تو وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا اور شرعی حکم معلوم ہونے کے بعد وہ معذور نہیں سمجھان جائے گا۔ جو شخص غیراللہ کے لئے جانور ذبح کرتا ہے اس کا بھی یہی حکم ہے۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَسَلَّمَ اللجنۃ الدائمۃ ۔ رکن: عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان، نائب صدر: عبدالرزاق عفیفی، صدر عبدالعزیز بن باز ٭٭٭ فتویٰ(۴۱۲۷) شرعی احکام اور مذاق اڑانے کا حکم سوال شرعی پردہ کرنے والی خاتون سے ٹھٹھا کرنے والے شخص کا کیا حکم ہے؟ جو اسے چڑیل یا چلتا پھرتا خیمہ کہتا ہے اور اس قسم کے دوسرے نامناسب الفاظ استعمال کرتا ہے؟ جواب الْحَمْدُ للّٰہ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِہِ آلِہِ وَأَصْحَابِہ وَبَعْدُ: جو شخص کسی مسلمان مر دیا خاتون کا اسلامی شریعت کے احکام پر عمل پیرا ہونے کی وجہ سے مذاق اڑاتا ہے تو وہ کافر ہوجاتا ہے۔ خواہ ووہ کسی مسلمان خاتون کے شرعی پردے کا معاملہ ہو یا کسی قسم کا کوئی اور شرعی مسئلہ۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا: ’’غزوہ تبوک کے دوران کسی مجلس میں ایک شخص نے کہا: میں نے ان قاری حضرات جیسا پیٹو، جھوٹا اور جنگ میں بزدلی دکھانے ولا کوئی نہیں دیکھا۔[1] ایک اور شخص نے جواب میں کہا: ’’تو جھوٹ کہتا ہے بلکہ تو ہے ہی منافق‘ میں ضرور جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمہاری یہ بات بتاؤں گا۔‘‘ یہ خبررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ گئی اور اس کے متعلق [1] صحابہ کرام میں سے جو حضرات قرآن مجید کے زیادہ عالم اور دین کے مسائل سے زیادہ واقف ہوتے تھے، انہیں قاری کہا جاتا تھا۔