کتاب: فتاوی ابن باز - صفحہ 231
﴿قُلْ اِِنِّی لَا اَمْلِکُ لَکُمْ ضَرًّا وَلَا رَشَدًا ٭قُلْ اِِنِّی لَنْ یُّجِیرَنِی مِنَ اللّٰہِ اَحَدٌ وَلَنْ اَجِدَ مِنْ دُوْنِہٖ مُلْتَحَدًا﴾ (الجن۷۲؍۲۱۔۲۲) ’’(اے پیغمبر!) کہہ دیجئے! میں تم لوگوں کے لئے نقصان کا مالک ہوں نہ ہدایت کا۔ مجھے اللہ (کے غضب) سے کوئی پناہ نہیں دے گا۔ نہ اس کے سوا مجھے کوئی جائے پناہ ملے گی۔‘‘ وہ حضرات جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے انتہائی گہرا تعلق رکھتے تھے، جن کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے انتہائی رشتہ تھا، جو صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن سلوک کے سب سے زیادہ مستحق تھے، آنحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی حکم دیا ہے کہ مجھ پر ایمان اور شریعت پر عمل کے ذریعے جو خود کو اللہ کے عذاب سے بچالیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ بھی بتایا کیہ اللہ کے غضب سے بچانے کے لئے خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے کام نہیں آئیں گے۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی بتایا کہ قیامت کے دن نوح‘ ابراہیم‘ موسیٰ اور عیسیٰ علیہ السلام بھی نفسی نفسی پکاریں گے۔ تو سلسلہ قادریہ کا پیر یا مخلوقات میں سے کوئی اور فرد کس طرح اپنے مریدوں کو چھڑا سکتاہے؟ اور کس طرح اھنا عہد پورا کرنے والوں کی حفاظت اور فریاد ر سی کرسکتا ہے؟ اور قیامت کو اعمال تو لے جانے کے وقت ان کا ساتھ دے سکتا ہے؟ اسے کس طرح یہ اختیار حاصل ہو سکتا ہے کہ جہنم کے دروازے بند کردے؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ واضح بہتان ہے اور رب العالمین کی شریعت کا صاف صاف انکار۔ یہ عقیدہ رکھنے والے نے غلو میں عقل وشرع کی تمام سرحدیں پار کر ڈالی ہیں۔ وہ دعویٰ کرتا ہے کہ شیخ عبدالقادر جیلانی تخلیق کائنات سے قبل نور محمدی کے ساتھ موجود تھے اور جب قاب قوسین والی ملاقات ہوئی تو عبدالقادر بھی دوستوں کی اس ملاقات میں شریک تھے۔ وہ کہتا ہے کہ آپ نوح علیہ السلام کے ساتھ کشتی میں تھے اور انہوں نے اپنی قدرت کی ہتھیلی پر طوفان کا نظارہ کیا اور وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ تھے جب انہیں آگ میں ڈالا گیا اور وہ آگ ان کی دعا ہی سے ٹھنڈی ہوئی تھی اور اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ تھے اور اسماعیل کی جگہ قربانی کے لئے مینڈھا ان کی بہادری یا ان کے فتویٰ کی وجہ سے نازل ہوا اور جب یعقوب علیہ السلام کی نظر ختم ہوگئی تو عبدالقادر اس وقت ان کے ساتھ تھے اور ان کے لعاب دہن کی وجہ سے حضرت یعقوب علیہ السلام کی بینائی واپس آئی۔ ادریس علیہ السلام کو جنت میں انہوں نے ہی بٹھایا، جب موسیٰ علیہ السلام اللہ سے ہم کلامی کا شرف حاصل کرنے کے لئے گئے تھے تو شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ بھی ان کے ساتھ تھے اور موسی علیہ السلام کا عصا ان کے عصا سے ہی بنایا گیا تھا، وہ گہوارے میں عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھے۔ داؤد علیہ السلام کو بہترین آواز انہو ں نے دی تھی‘ بلکہ یہ (خبیث) اس سے بھی‘ برا دعویٰ کرتا ہے چنانچہ قصیدہ کے تین شعروں میں یہ دعویٰ کرتا ہے کہ عبدالقادر ہی اللہ ہیں۔ اس مفہوم کا سب سے واضح شعر یہ ہے: أَنَا الْوَاحِدُ الْفَرْدُ الْکَبِیرُ بِذَاتِہِ أَنَا الْوَاصِفُ الْمَوْصُوفُ شَیْخُ الطَّرِیقَۃِ ’’میں بذات خود واحد‘ اکیلا اور بڑا ہوں میں تعریف کرنے والا ہوں اور میری ہی تعریف کی گئی ہے میں شیخ طریقت ہوں۔‘‘ کیا اس سے بڑھ کر کوئی کفر ہوسکتا ہے ؟ نعوذ باللّٰه من ذالک تو اے فتویٰ پوچھنے والے بھائی! بری بات کا تو سننا ہی (اس کی برائی معلوم کرنے کے لئے) کافی ہوتا ہے۔ شیخ الطائفہ کی تعریف پر مبنی اس نظم میں جو بہتان‘ جھوٹ اور سرکشی بھری پڑی ہے اس کو دیکھنے کے بعد شیخ کی سیرت وتاریخ کے تفصیلی مطالعہ کی ضرورت نہیں رہتی۔ آپ کوشش کریں کہ قرآن وحدیث سے حق کو سمجھیں اور سلف صالحین یعنی صحابہ صلی اللہ علیہ وسلم وتابعین کرام رحمہم اللہ نے قرآن وسنت کی جو تشریح کی ہے اسی کامطالعہ کریں۔ ویسے ہمیں یقین ہے کہ شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ جن کی طرف یہ قصیدہ منسوب کیا جاتاہے، ان کا اس سے اتنا ہی تعلق ہے جتنا بھیڑئیے کا یوسف علیہ السلام کے خون سے تھا۔