کتاب: فتاوی ابن باز - صفحہ 224
تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور دین اسلام کی شان میں گستاخی ثابت ہوتی ہیں اور لوگو ں کی گمراہی کا باعث ہیں اور ان میں ناجائز فخر وغرور بھی پایا جاتا ہے۔ کیونکہ وہ علم وغیب وغیرہ کا دعویٰ رکھتا ہے۔ اللہ کی توفیق سے یہ چند باتیں مختصراً بیان کر دی گئیں۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَسَلَّمَ اللجنۃ الدائمۃ ۔ رکن: عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان، نائب صدر: عبدالرزاق عفیفی، صدر عبدالعزیز بن باز ٭٭٭ فتویٰ (۲۰۸۹) اگر اہل بدعت کے شرکا اندیشہ ہو تو کیا کیا جائے؟ سوال نماز کا امام اگر بدعتی اور صوفیانہ طریقوں کا پیروکار ہو، خصوصاً تیجانی فرقہ سے متعلق امام کے پیچھے نماز پڑھنے کے متعقل فقہاء کے اقوال اویک دوسرے سے مختلف ہیں۔ میں نے جناب شیخ عبدالرحمن بن یوسف افریقی رحمہ اللہ سابق مدیر دارالحدیث مدینہ منورہ کا ایک رسالہ پڑھا ہے جس کا نام ہے ’’الأنور الرحمانیۃ في ھدایۃ الفرقۃ التیجانیۃ‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ اس جماعت کے عقائد درست نہیں، اللہ تعالیٰ انہیں سیدھی راہ دکھائے (آمین)۔ وہ قرآن مجید پر ایمان لانے، ا سکی تصدیق کرنے اور اس کے رسول مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے اتباع کی نسبت شرک اور گمراہی سے زیادہ قریب ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا تیجانی طریقہ پر عمل کرنے والے بدعتی امام کے پیچھے نماز ہوجاتی ہے؟ اگر جواب نفی میں ہے تو اگر شہر میں کوئی مسجد نہ ہو جس کا امام بدعتی نہ ہو تو کیا ایک مسلمان گھر میں اپنے افراد خانہ کے ساتھ مل کر باجماعت نماز ادا کرسکتا ہے؟ کیا یہ جائز ہے کہ مسجد میں جب تیجانی بدعتی امام نماز پڑھا کر فارغ ہوجائے تو اس مسجد میں الگ جمعت کرالی جائے؟ جب کہ اس کا نتیجہ مسلمانوں میں افتراق اور ذہنی انتشار کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ جواب: اَلْحَمْدُ للّٰہ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِہِ وآلِہِ وَأَصْحَابِہ وَبَعْدُ: تیجانی فرقہ،کفر، بدعت اور گمراہی میں تمام فرقوں سے بڑھا ہوا ہے، لہٰذا ایسے امام کے پیچھے نماز نہیں ہوتی جو ان کے طریقہ سے تعلق رکتھا ہو اور مسلمان ایسا امام تلاش کرسکتا ہے جو تیجانی وغیرہ فرقوں میں سے نہ ہو، جن کی عبادتیں اور ا عمال حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت سے خالی ہیں۔ اگر غیر بدعتی نہ ملے تو مسلمانوں کی کسی مسجد میں جماعت کرالی جائے بشرطیکہ فتنہ کا اور بدعتوں کی طرف سے تکلیف پہنچنے کا اندیشہ نہ ہو۔ اگر رہائش ایسے علاقے میں ہو جہاں اہل بدعت کا زور ہے تو اپنے گھر میں یا کسی جگہ جماعت قائم کرلیں جہاں تکلیف پہنچنے کا خطرہ نہ ہو اور اگر یہ ممکن ہ وکہ آپ اپنی رہائش کسی ایسے شہر میں منتقل کرلیں جہاں سنت پر عمل کیا جاتا ہو اور بدعتوں کا مقابلہ کیا جاتا ہو، پھر آپ کو ضرور وہاں منتقل ہوجانا چاہئے۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَسَلَّمَ اللجنۃ الدائمۃ ۔ رکن: عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان، نائب صدر: عبدالرزاق عفیفی، صدر عبدالعزیز بن باز ٭٭٭