کتاب: فتاوی ابن باز - صفحہ 211
استغفار اور درود شریف پر مشتمل ہے۔ یہ چیز اسے ۱۱۹۶ھ میں حاصل ہوئی اور اس کی تکمیل صدی کے ختم ہونے پر سورت اخلاص کا وظیفہ حاص ہونے پر ہوئی۔ اس لئے اسے سلسلہ احمدیہ اور محمدیہ بھی کہا جاتا ہے اور سلسلہ تیجانیہ بھی‘ جو اس قبیلہ کی طرف نسبت ہے جس میں اس کے دادا محمد نے شادی کی تھی اور یہ لوگ اس کی طرف منسوب ہوئے۔ شہرت حاصل ہونے کے بعد احمد تیجانی نے دعویٰ کیا کہ وہ سید ہے اور اس کا سلسلہ نصب حضرت حسن بن علی بن ابن گواہی کی ضرورت محسوس کی۔ بلکہ اس نے دعویٰ کیا کہ بیداری میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی۔ اس وقت اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے نسب کے متعلق سوال کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تو سچ مچ میرا بیٹا ہے۔‘‘ نبی علیہ السلام نے یہ الفاظ تین بار ارشاد فرمائے۔ پھر فرمایا: ’’حسن رضی اللہ عنہما تک تیرا نسب صحیح ہے، مذکورہ بالا معلومات علی حراز کی کتاب ’’جواھر المعانی‘‘ کے پہلے باب اور عمر بن سعید فوتی کی ’’کتاب الرماح‘‘ کی آٹھائیسویں فصل میں مذکور بیانات کا خلاصہ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ خلفائے راشدین یا دیگر صحابہ کرام صلی اللہ علیہ وسلم میں سے کسی میں یہ ثابت نہیں… حالانکہ وہ لوگ انبیاء کرام رضی اللہ عنہم کے بعد ا للہ تعالیٰ کی تمام مخلوقات میں بلند ترین درجہ کے حامل تھے… کہ ان میں سے کسی نے یہ دعویٰ کیا ہو کہ اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت بیداری میں ہوئی ہے اور یہ ایک بد یہی حقیقت ہے کہ شریعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں مکمل ہوگئی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اس امت کا دین مکمل کر کے اپنی نعمت کی تکمیل فرمادی تھی۔ ارشاد ربانی تعالیٰ ہے: ﴿اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا﴾ (المائدۃ۵؍۳) ’’آج میں نے تمہارے لئے دین مکمل فرمادیا ہے اور تم پر اپنی نعمت تمام کردی ہے اور تمہارے لئے اسلام کو بطور دین پسند فرمالیا۔‘‘ لہٰذا احمد تیجانی کا یہ دعویٰ کہ اس نے بیداری میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیداری میں براہ راست طریقہ تیجانیہ حاصل کیا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود یہ وظیفہ مقرر کیا ہے۔ جس کے ذریعہ وہ اللہ کا ذکر کرے اور درود پڑھے۔ یقیناً اس کا یہ دعویٰ واضح گمراہی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک بہتان ہے۔ تیجانی عقائد کا مختصر بیان اس کے اور اس کے متبعین کے عقائد کا مختصر بیان: ہیۂ کبار العلماء کی کمیٹی کے دسویں اجلاس میں پیش کرنے کے لئے یہ مقالہ لکھنے کے جو اسباب ہیں ان کا مقصد اس طریقہ کے بڑوں سے مباحثہ یا ان کی تردید اور ان کے سامنے صحیح بات پیش کرنا نہیں، بلکہ مقصد صرف یہ ہے کہ ان کی کتابوں کا مطالعہ کر کے ایسے حوالے پیش کردیئے جائیں جن سے ان کے عقائد واضح ہوجائیں۔ پھر ان کی روشنی میں ان حوالوں کے تقاضے کے مطابق ان پر حکم لگایا جائے۔ اس لئے مجلس افتاء وتحقیقات علمیہ نے ان کی کتابوں سے چند عبارتیں نقل کی ہیں جن سے ان کے عقائد واضح ہوجاتے ہیں اور ان کی روشنی میں ان لوگوں کے بارے میں فیصلہ کرنا آسان ہوجاتا ہے ہم نے ان عبارتوں میں اپنی طرف سے چند اشارات کے سوا کوئی اضافہ نہیں کیا ہے۔ ذیل میں علی حرازم کی کتاب ’’جواہر المعانی وبلوغ الامانی‘‘ اور عمر بن سعید فوتی کی کتاب ’’رماح حزب الرحیم علی نحور حزب الرجیم‘‘ کے چند اقتباسات پیش کئے جاتے ہیں: