کتاب: فتاوی ابن باز - صفحہ 205
بھی۔ چنانچہ قرآن مجید نے وضاحت کی ہے کہ دل سے اللہ کاذکر اس طرح ہوتا ہے کہ اس کی عظمت‘ ہیبت‘ شان اور وقار کا احساس کیا جائے، اس سے خوف اور اس کی طرح دل کی توبہ اور رغبت ہو اور اللہ تعالیٰ کا ذکر اس سے ڈرتے ہوئے، پوشیدہ طور پر، آواز بلند کئے بغیر دن کے ابتدائی اور آخری حصے میں ہونا چاہئے اور اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ نماز اس کا سب سے عظیم ذکر ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے: ﴿حٰفِظُوْا عَلَی الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی وَ قُوْمُوْا لِلّٰہِ قٰنِتِیْن٭فَاِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا اَوْ رُکْبَانًا فَاِذَآ اَمِنْتُمْ فَاذْکُرُوا اللّٰہَ کَمَا عَلَّمَکُمْ مَّا لَمْ تَکُوْنُوْا تَعْلَمُوْن﴾ (البقرۃ۲؍۲۳۸۔۲۳۹) ’’نمازوں کی حفاظت کرو اور درمیانی نماز کی (زیادہ خیال سے حفاظت کرو) اور اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی وادب سے کھڑے ہوا کرو۔ پھر اگر تمہیں (دشمن کے حملے کا) خطرہ ہو تو پیدل چلتے ہوئے یا سواری پر (نماز پڑھ لو،) پھر جب تمہیں امن حاصل ہوجائے (اور خطرہ دور ہوجائے) تو اللہ کو یاد کرو جس طرح اس نے تمہیں سکھایا ہے جو کچھ تمہیں معلوم نہیں تھا۔‘‘ مزید ارشاد گرامی ہے: ﴿فَاِذَاقَضَیْتُمُ الصَّلٰوۃَ فَاذْکُرُوا اللّٰہَ قِیٰمًاوَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰی جُنُوْبِکُمْ فَاِذَا اطْمَاْنَنْتُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ ﴾ (النساء۴؍۱۰۳) ’’پھر جب تم (نماز خوف کے طریقے پر) نماز ادا کرچکو تو کھڑے، بیٹھے یا پہلو لیٹے ہوئے (ہر حال میں) اللہ کو یاد کرو۔ پھر جب تمہیں اطمینان حاصل ہوجائے تو (حسب معمول) نماز قائم کرو۔‘‘ نماز میں تلاوت بھی ہے، تکبیر وتحلیل بھی‘ تسبیح تمحید بھی ہے اور دعا بھی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَ اذْکُرْ رَّبَّکَ فِیْ نَفْسِکَ تَضَرُّعًا وَّ خِیْفَۃً وَّ دُوْنَ الْجَہْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ وَ لَا تَکُنْ مِّنَ الْغٰفِلِیْن﴾ (الاعراف۷؍۲۰۵) ’’اپنے رب کو صبح وشام عاجزی اور خوف کے ساتھ‘ بلند آواز کئے بغیر آہستہ آہستہ اپنے دل میں یاد کرو غافلوں میں سے نہ ہوجانا۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور عمل سے اذکار کی قسمیں، اوقات اور کیفیات معلوم ہوتی ہیں۔ چنانچہ احادیث میں صبح اور شام کے اذکار، مشکل اور مصیبت کے موقع کے لئے اذکار، سونے اور جاگنے کے وقت ‘ سفر اور واپسی کے وقت کے اذکار اور اسی طرح دیگر بہت سے اذکار اور دعائیں ہیں۔ ان دعاؤں کے الفاظ اور کیفیات کا بھی تعین کر دیا گیا ہے۔ مثلاً جس حدیث میں ان سات افراد کا ذکر ہے جنہیں اللہ تعالیٰ اپنے سائے میں جگہ دے گا جس دن اس کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہیں ہوگا، اس حدیث میں ان سات افراد میں سے ایک شخص وہ بھی ہے جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا تو اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ لہٰذا جو شخص قرآن وسنت میں مذکور ذکر کی قسمیوں اور اوقات وکیفیات کے مطابق ا للہ کا ذکر کرتا ہے اس نے اللہ تعالیٰ کے حکم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی کی اتباع کی اور وہ اجروثواب کا بھی مستحق ہوگیا۔ اس کے برعکس جو شخص مسنون اذکار کے الفاظ میں کمی بیشی یا تغیروتبدل کرتا ہے، یا اس کی کیفیت اور طریقے میں ردوبدل کرتاہے، یا ایسی کیفات کی پابندی کرتا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائیں اور مطلق کو مقید یا مقید کو مطلق کردیتا ہے اور ذکر میں ایسا طریقہ لازم کرلیتا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ یا صحابہ کرام صلی اللہ علیہ وسلم اور تابعین وتبع تابعین کے مبارک زمانوں میں رائج نہیں تھا، وہ غلط کام کرتا ہے اور بدعت پر عمل پیرا ہے، لہٰذا وہ اجر وثواب سے محروم رہے گا اور