کتاب: فتاوی ابن باز - صفحہ 195
(مَنْ عَمَلَ عَمَلاً لَیْسَ عَلَیْہِ أَمْرُنَا فَھُوَ رَدٌّ) ’’جس نے کوئی عمل کیا جو ہمارے حکم کے مطابق نہیں تو وہ غیر مقبول ہے۔‘‘ اس حدیث کو امام مسلم رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’صحیح‘‘ میں روایت کیا ہے۔ مسلمان کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ اقوال وافعال میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروری کرے۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَسَلَّمَ اللجنۃ الدائمۃ ۔ رکن: عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان، نائب صدر: عبدالرزاق عفیفی، صدر عبدالعزیز بن باز ٭٭٭ فتویٰ (۷۵۸۳) تین فرقو ں کا بیان سوال راقم عرض کرتا ہے کہ اس کے ملک میں تین مذہبی فرقے پائے جاتے ہیں۔ (۱) جماعت ردبدعت وترویج سنت۔ (۲) جماعت طرق صوفیہ۔ (۳) جماعت طریقہ قادریہ۔ گزار ش ہے کہ ان تینوں فرقوں پر روشنی ڈالیں اور ارشاد فرمائیں کہ قرآن وسنت کی روشنی میں ان کا کیا مقام ہے؟ جواب اَلْحَمْدُ للّٰہ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِہِ وآلِہِ وَأَصْحَابِہ وَبَعْدُ: (۱) جوکوئی قرآن مجید اور صحیح احادیث کی طرف بلاتا ہے اور خو د بھی اس پر عمل کرتا ہے، قرآن وحدیث کے خلاف کاموں کی تردید کرتا ہے اور بدعتوں کو ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے، اہل سنت سے تعاون کرتاہے اور ان سے محبت رکھتا ہے اور اہل بدعت سے نفرت رکھتا ہے اور اسلام میں ایجاد کی جانے والی نئی نئی بدتوں کو مدلل تردید کرتاہے، وہ اہل سنت والجماعت میں شامل ہے۔ (۲) صوفیہ کے سلسلوں کے بہت سے گروہ اور شاخیں ہیں۔ مثلاً تجانیہ،قادریہ،خلوتیہ وغیرہ۔ ان میں سے کوئی گروہ بھی بدعتوں سے خالی نہیں، اگرچہ یہ فرق موجود ہے کہ کسی گروہ میں بدعتیں کم ہیں کسی میں زیادہ۔ (۳) شیعہ کے بہت سے فرقے ہیں، جن کی تعداد بیس سے زیادہ ہے، ان کے متعلق آپ شہر ستانی کی کتاب ’’اَلْمَلَلْ وَالنِّحَلَ‘‘ ابن حز کی کتاب ’’اَلْفَصَلَ فِی الْمِلَلْ وَالنِّحَلْ‘‘ بغدادی کی کتاب ’’اَلْفَرْقُ بَیْنَ الْفِرْقْ‘‘ ’’مُخْتَصَرَ کِتَابُ الْاَئِمَّۃ الْاِثْنِی عَشَریَّۃَ‘‘ اور ابن تیمیہ کی کتاب ’’مِنْھَاجُ الُّسُنَّۃ‘‘ کا مطالعہ کریں۔ ان کتابوں میں ان فرقتوں کے تفصیلی عقائد اور اسلام میں ان کے مقام پر کافی روشنی ڈالی گئی ہے۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَسَلَّمَ اللجنۃ الدائمۃ ۔ رکن: عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان، نائب صدر: عبدالرزاق عفیفی، صدر عبدالعزیز بن باز ٭٭٭