کتاب: فتاوی ابن باز - صفحہ 194
رحمہ اللہ کے دادا مجددالدین عبدالسلام کی کتاب ’’منتقی الأخبار‘‘اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی کتاب ’’بلوغ المرام‘‘ اور دیگر کتابوں میں مل سکتی ہیں۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَسَلَّمَ اللجنۃ الدائمۃ ۔ رکن: عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان، نائب صدر: عبدالرزاق عفیفی، صدر عبدالعزیز بن باز ٭٭٭ فتویٰ (۷۱۷۰) یہ قربانی درست نہیں سوال میں اس مقام پر رہتا ہوں جہاں مصر اور سوڈان کی سرحد آپس میں ملتی ہے، جہاں تصوف کے بہت سے سلسلے قائم ہیں جو خود بھی گمراہ ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔ یہاں بعض لوگ عید گزرنے کے تین دن بعد قربانی کرتے ہیں تاکہ وہ صوفی کھانا کھائیں جو اپنی رسمیں اداکرنے کے لئے آئیں ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ یہ دین کا کام ہے، کیا ان کی یہ قربانی صحیح ہے یا یہ عام گوشت ہے جس طرح حدیث میں آیا ہے؟ جواب اَلْحَمْدُ للّٰہ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِہِ وآلِہِ وَأَصْحَابِہ وَبَعْدُ: آپ نے جو کہا ہے کہ صوفیہ کے سلسلے بدعتوں سے آلودہ ہیں اور وہ خود بھی گمراہ ہیں وار دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں، یہ بات درست ہے اور جو جانور قربانی کیلئے رکھا گیا ہو پھر اسے عید کے ایام سے تین بعد ذبح کیا جائے اسے قربانی شمار نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ قربانی زیادہ سے زیادہ چار دن ہے جن میں عید کا دن بھی شامل ہے۔ اس کے بعد ان کا ذبح کیا ہوا جانور عام گوشت ہے جسے وہ اپنے مہمانوں کی عزت کیلئے اور بدعت کی ترویج میں ان سے تعاون کرنے کیلئے پیش کرتا ہے۔ اس طرح یہ عمل گناہ اور زیادتی میں تعاون کے ذیل میں آجاتاہے۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَسَلَّمَ اللجنۃ الدائمۃ ۔ رکن: عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان، نائب صدر: عبدالرزاق عفیفی، صدر عبدالعزیز بن باز ٭٭٭ فتویٰ (۶۸۹۸) اہل تصوف میں مروج یہ طریقہ صحیح نہیں سوال اہل تصوف میں ذکر کا جو طریقہ موجودہ زمانے میں پایا جاتا ہے کیا یہ صحیح ہے یا غلط؟ کیا یہ طریقہ سنت سے ثابت ہے؟ اگر ثابت ہے تو وہ کون کون سی حدیثیں ہیں جن سے اس کا ثبوت ملتا ہے اس مسئلہ کی وجہ سے لوگو ں میں بہت سے مسائل پیدا ہورہے ہیں۔ جواب اَلْحَمْدُ للّٰہ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِہِ وآلِہِ وَأَصْحَابِہ وَبَعْدُ: صوفیہ میں رائج اذکار کو باجماعت ترنم سے جھوم جھوم کر پڑھنا ایک تو ایجاد بدعت ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: (مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا ھٰذَا مَا لَیْسَ مِنْہُ فَھُوَ رَدٌّ) ’’جس نے ہمارے اس دین میں کوئی نیا کام نکالا جو (دراصل) اس میں سے نہیں، وہ ناقابل قبول ہے۔‘‘ اس حدیث کو امام بخاری اور امام مسلم رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے۔ نیز فرمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: