کتاب: فتاوی ابن باز - صفحہ 191
کر رکھنا اور نئے نئے کاموں سے بچنا۔ کیونکہ ہر نیا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔‘‘ اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خبر دی ہے کہ آپ کی امت میں بہت سے اختلاف ہوں گے اور لوگ الگ الگ راہوں پر چل نکلیں گے اور بہت سی بدعتیں ایجاد ہوجائیں گی‘ چنانچہ آپ نے مسلمانوں کو یہ حکم دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو مضبوطی سے تھامے رکھیں اور انہیں اختلاف‘ تفرقہ اور بدعتوں سے ڈرایا کیونکہ یہ گمراہی اور ہلاکت کا باعث ہیں اور جو شخص ان راہوں پر چلتا ہے وہ راہ راست سے دور ہوجاتاہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو وہی نصیحت کی جو اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فرمان میں کی ہے: ﴿وَ اعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا﴾ (آل عمران۳؍۱۰۳) ’’تم سب ملک کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور الگ الگ نہ ہوجاؤ۔‘‘ اور فرمان ہے: ﴿وَ اَنَّ ہٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْہُ وَ لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیْلِہٖ ذٰلِکُمْ وَصّٰکُمْ بِہٖ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْن﴾ (الانعام۶؍۱۵۳) ’’اور تحقیق یہ میرا راستہ ہے جو سیدھا ہے تو اس پر چلو اور دوسری راہوں کے پیچھے نہ لگنا، ورنہ وہ تمہیں اس کے راستے سے جدا کردیں گی‘ اس نے تمہیں یہ نصیحت کی ہے کہ تاکہ تم بچ جاؤ۔‘‘ ہم بھی آپ کو وہی نصیحت کرتے ہیں جو اللہ تعا لیٰ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہے اور نصیحت کرتے ہیں کہ اہل سنت والجماعت کے طریقہ پر قائم رہیں اور ان تمام چیزوں سے بچیں جو اہل طریقت نے ایجاد کر لی ہیں، یعنی ملاوٹی تصوف‘ خود ساختہ وظیفے، غیر شرعی اذِکار اور دعائیں جن میں صاف طور پر شرک پایاجاتاہے یا وہ شرک کا ذریعہ ہیں مثلاً غیر اللہ سے فریاد کرنا،اسم مفرد کے ساتھ اللہ کا ذکر کرنا، ایسے الفاظ کے ساتھ ذکر کرنا جو دراصل اللہ تعالیٰ کے نام نہیں مثلاً ’’آہ‘‘ اور بزرگوں کے وسیلہ سے دعا کرنا، ان کے متعلق یہ عقیدہ رکھنا کہ وہ دلوں کے راز جان لیتے ہیں اور مل کر ایک آواز سے اللہ کا ذکر اور شعر پڑھتے ہوئے تھرکنا اور اس طرح کی دیگر حرکات جن کا اللہ کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں کوئی ذکر نہیں۔ یہ رسومات بدعات اور غلو کے ذیل میں آتی ہیں سوال یہاں تنزانیہ میں ہم لوگ کھانے کی دعوت کرتے ہیں اور شہر میں ایک خاص مقام پر جمع ہوتے ہیں اور کہتے ہیں ’’یہ زیارت طریقہ قادریہ کے شیخ عبدالقادر جیلانی کی طرف سے ہے۔‘‘ تو کیا یہ کام بدعتہے یا سنت ہے؟ اور کیا اس میں کوئی حرج یا گناہ کی بات ہے؟ کیونکہ ہم کسی مسجد کو اس وقت آباد نہیں کرتے جب تک یہ ’’زیارت‘‘ ادا نہ کر لی جائے اور میلاد نہ پڑھ لیا جائے یعنی اس مقصد کے لئے باقاعدہ ایک بڑی تقریب منعقد کی جاتی ہے تو کیا ان کاموں میں کوئی حرج ہے یا نہیں؟ جواب اَلْحَمْدُ للّٰہ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِہِ وآلِہِ وَأَصْحَابِہ وَبَعْدُ: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور سلف صالحینj کے دور میں کسی فوت ہونے والے نیک آدمی کے لئے اس طرح کی دعوتیں نہیں ہوتی تھیں، نہ کسی صحابی یا بعد کے بزرگ نے حیات طیبہ کے دوران یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے بعد میلاد منایا نہ آپ کے نام سے کھانے کا اہتمام کیا۔ لہٰذا جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یا کسی اور ولی یا لیڈر کے یوم